اردو
हिन्दी
اگست 24, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہمارا ادب علمی بانجھ پن کا شکار؟

12 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
114
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبار قریشی

موجودہ معاشرہ مادیت پرستی کا شکار ہے سیاسی سماجی اور معاشی ناہمواریوں، بدعنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ایسے عوامل ہیں جس نے معاشرے کی اکثریت کو جذبات سے عاری بنا دیا ہے عوام کا ہر اچھی قدر سے اعتماد اٹھ گیا ہے لوگ اپنی بنیادی ضرورتوں کی کفالت میں اس قدر الجھ کر رہ گئے ہیں کہ انھیں اپنے سائے سے آگے زندگی کے آثار نظر نہیں آتے۔
اس رویے نے انسان کو بے سکونی کے دلدل میں دھکیل دیا ہے ایسے حالات میں معاشرے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کو بدلنے کا کام محض سیاسی قوتوں کا ہی نہیں ہے بلکہ اس تبدیلی کے عمل میں معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بالخصوص دانشور اور ادیبوں کا کردار زیادہ اہم ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ادیبوں کو اپنے خیالات اور جذبات دوسروں تک منتقل کرنے کے فن میں قدرت حاصل ہوتی ہے یہ اپنی تحریروں کے ذریعے وہ کچھ کہہ ڈالتے ہیں اور سمجھا دیتے ہیں جو بعض اوقات کسی اور طریقے سے کہنا اور سمجھانا ناممکن ہوتا ہے۔ ان کی باتیں غیر محسوس انداز میں ہمارے باطن میں داخل ہوکر ہماری سوچ کے دھارے کو بدل دیتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارا ادب گزشتہ کئی برسوں سے علمی بانجھ پن کا شکار ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ادب کی صفوں میں ادب سے غیر متعلقہ افراد اس شعبے میں داخل ہوگئے ہیں جو اپنا قد اونچا کرنے کے لیے مختلف جگہوں سے اشتہارات لے کر پیسے اکٹھا کرتے ہیں یا جن کے پاس ضرورت سے زیادہ پیسہ ہے ایسے لوگ ان کا کلام کیسا ہی ہو، افسانے، کہانیوں اور ناول کا معیار کیسا ہی ہو وہ لکھ کر اسے کتابی شکل میں چھاپ دیتے ہیں اس سے ادب میں اس بے ادبی کی بدولت ادب کا معیار گرگیا ہے۔ان افراد کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہر تحریر ادب نہیں ہوتی، ہر تحریر کو ادب سمجھ کر لکھنا ایک حماقت ہے اور ایسی تحریر کو ادبی تحریر سمجھ کر پڑھنا مزید حماقت ہے۔
ایسے ادب کا کیا حاصل ہے جو ہماری سوچ کے دھارے کو نہ بدل سکے اور نئے شعور کو عام نہ کر سکے۔ ہمیں اس پر غور ضرور کرنا چاہیے۔ ادب کے زوال کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ادیب کا اپنے قاری سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اس بے تعلقی میں ادیب اور قاری دونوں برابرکے شریک ہیں۔لکھنے والے کی یہ ضد ہے کہ وہ اپنی بلندی فکر سے نیچے نہیں آئے گا اور پڑھنے والا اپنی ذہنی سطح اور علمی پس منظرکے مطابق ادب کا طلب گار ہے ایسے حالات میں ادیبوں کو چاہیے کہ ادب کے قاری کی ذہنی تربیت کی خاطر ادب کو عام فہم بنائے اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کا ساتھ انھی کی زبان میں انھیں کے محاوروں اور لب و لہجے میں ان کی ذہنی سطح سامنے رکھ کر ادب تخلیق کرے
دوسری طرف ادب کے قاری کو بھی چاہیے کہ وہ ایسی تحریروں کو خارج از مطالعہ قرار نہ دیں بلکہ انھیں سمجھنے کی کوشش بھی کریں اور اپنے مطالعے کے معیار کو قدرے بلند کریں۔ ادب کو محض رسمی، وقتی اور تفریحی مزاج سے پڑھنے سے گریز کریں۔
جس طرح سیاسی کلچر میں محلاتی سازشوں اور سیاست کی بساط پر کھیلی جانے والی شاطرانہ چالوں نے جمہوریت اور جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا ہے اسی طرح ادیبوں کے مابین گروہ بندیوں نے ادب کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
ہمارے بعض ادیب گروہ بندی کا شکار ہو کر ذاتی مفادات کے حصول میں سرگرداں اور مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے ادب کو تعلقات استوارکرنے کا زینہ بنایا ہوا ہے۔ میری ذاتی رائے میں ادیب کے قلم کو مذہبی، مسلکی، علاقائی، لسانی اور نسلی تعصب سے پاک ہونا چاہیے اور ادب میں آفاقی سوچ کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
ادب کے زوال کا ایک سبب ادبی اداروں کا ادب کے فروغ میں غیر موثر کردار ہے۔ بعض اداروں میں جیسا ہے اور جہاں ہے کی بنیاد پر وقت گزاری ہو رہی ہے۔ اس سے متعلقہ افراد کو ماہانہ تنخواہ اور الاؤنسز سے ہی دلچسپی ہوتی ہے ان کا قومی احساس بھی قومی دنوں تک ہی محدود ہے جس کی وجہ سے ادب کے فروغ کے امکانات محدود ہوگئے ہیں۔
تنقید کی دھڑے بندیوں نے بھی ادب کو بے آبروکیا ہے۔ معاشرے کا کوئی فرد بھی ہو وہ تعصب، تضادات اور ترجیحات سے عاری نہیں ہوتا، اس لیے کوئی بڑے سے بڑا نقاد کلی طور پر غیر جانب دار ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا البتہ یہ کوشش ضرورکی جا سکتی ہے کہ مختلف ہائے خیال کا غیر جانب داری سے تجزیہ کیا جائے میری ذاتی رائے میں تنقید نگاروں کو چاہیے کہ وہ تبصرہ اور تجزیہ کرتے وقت لکڑ ہارے کا کردار ادا کرنے کے بجائے باغ کے مالی کا کردار ادا کریں۔
ادب احساس کی قوت کو جگاتا ہے، یہی کام مذہب بھی کرتا ہے یعنی ادب اور مذہب زندگی کو معنی عطا کرتے ہیں لیکن دونوں میں بنیادی فرق بھی ہے۔ ادب اپنے ابلاغ میں صرف رسائی چاہتا ہے جب کہ مذہب اپنی تبلیغ میں ایمان کی رسید طلب کرنے کے ساتھ اطاعت کا بھی طلبگار ہوتا ہے یعنی یہ شعوری طور پر اثر پذیر ہوتا ہے جب کہ ادب غیر شعوری طور پر اثر پذیر ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے مذہبی طبقے نے ادب سے بے اعتنائی اختیار کر رکھی ہے یہی وجہ ہے کہ ادب کی دنیا میں دائیں بازو کے ادیبوں کا پلہ زیادہ بھاری رہا ہے۔ مذہبی طبقے کو اس جانب توجہ دینی چاہیے اس ضمن میں یہ بات یاد رکھیں کہ اسلوب موضوعات اور لفظیات سے نہیں احساس سے تشکیل پاتا ہے۔ اس میں جگر کو خون اور پتہ کو پانی کرنا ہوتا ہے۔ آج کا ادب ” ادب برائے مفاد پرست” بن کر رہ گیا
ادب کے عروج کے لیے ضروری ہے کہ اس سے زنجات حاصل کی جائے۔ میں نہ کسی سیاسی تحریک کا ترجمان ہوں نہ ہی کسی مخصوص نظریاتی ادب کا مبلغ، میرے نزدیک وطن عزیز میں جس زبان میں بھی قومی وقار، اعلیٰ اقدار، زندہ روایات، صحت مند تصورات اور اجتماعی شعور کے تحت جو معیاری ادب لکھا جا رہا ہے وہ تمام قومی ادب ہے ہمیں ایسے ادب کو فروغ دینا چاہیئے•

(فیس بک پیچ پیاز کے چھلکے سے مستعار)

ٹیگ: letitratureOur literature ،suffers، ،academic sterility.،adab urdu

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN