نئی دہلی:
اترپردیش میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں ، لیکن سیاسی سرگرمیاں ابھی سے تیز ہو چکی ہے، اس درمیان خبر ہے کہ مایاوتی کی پارٹی بہوجن سماج پارٹی اور اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم ) کا گٹھ بندھن ہو سکتا ہے ۔ یہ دونوں پارٹیاں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ایک ساتھ میدان میں اتر سکتی ہے ۔ اے آئی ایم آئی ایم یوپی کے پردیش صدر شوکت علی نے کہاکہ اس گٹھ بندھن کو لے کر دونوں پارٹی کے لیڈروں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے۔
غور طلب ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کرنے والی اے آئی ایم آئی ایم یوپی میں بھی اپنا مستقبل تلاش کررہی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے گزشتہ مہینوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔ اس میں اوم پرکاش راج بھر اور شیو پال یادو جیسے رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اترپردیش میں403 اسمبلی سیٹیں ہیں۔ گزشتہ بار ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی تھی۔ پارٹی نے اسمبلی کی تمام سیٹوں پر الیکشن لڑی تھی لیکن اس کے کھاتے میں محض 19 سیٹیں ہی آپائی تھیں۔ اسے کل 22.23فیصد ووٹ ملے تھے، وہیں اویسی کی پارٹی نے بھی گزشتہ بار کے اسمبلی انتخابات میں اپنی قسمت آزمائی لیکن اس کا کھاتا تک نہیں کھل سکا تھا۔ اے آئی ایم آئی ایم نے 38 سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا ۔
2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی ، بی جے پی کو اسمبلی انتخاب میں 41.57فیصد ووٹ ملے تھے اور اس نے 312 سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ بی جے پی نے اسمبلی کی 403 میں سے 384 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اس سے بہتر کارکردگی کرے گی۔










