نئی دہلی :(ایجنسی)
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے، وزیر داخلہ امت شاہ نے جاٹ لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد ایس پی کےساتھ اتحاد میں الیکشن لڑرہی جینت چودھری کی آرایل ڈی کو اشاروںمیں ہی بی جے پی اتحاد میں شامل ہونے کاآفر دیا تھا۔ حالانکہ اس کو لے کر پوچھے گئے ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ میڈیا نےان کے بیان کو غلط طریقے سے دکھایا۔ شاہ نے کہاکہ انتخابات کےنتائج کے بعد بھی آر ایل ڈی کے ساتھ اتحاد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
نیوز 18 سے بات چیت کے دوران جب وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے جینت چودھری کے بارے میں کہا تھا کہ آدمی تواچھے ہیں لیکن غلط پارٹی میں ہیں۔ کیا وہ اس بات کو آج بھی دہرائیں گے ؟ اس کے جواب میں امت شاہ نے کہاکہ ’’کیا آپ کے پاس اس کی کوئی ریکارڈنگ ہے؟ میںنے ایسا کچھ نہیں کہا تھا، ہوا میں باتیں میڈیامیںنکالی گئی۔ بی جے پی اکثریت سے الیکشن جیتنے جارہی ہے ۔‘
امت شاہ نے کہا کہ میں نے صرف اتنا کہا کہ وہ غلط جگہ پر گئے ہیں۔ پوسٹ پول الائنس کے امکانات پر، شاہ نے کہا،’پوسٹ پول الائنس کس لیے ہے؟ یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم بہت بڑے فرق سے الیکشن جیتنے جا رہے ہیں۔
ساتھ ہی سی اے اے کو لاگو کرنے کے سوال پر وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ سی اے اے پر فیصلہ کورونا سے مکمل طور پر چھٹکارا پانے کے بعد ہی لیا جائے گا۔ امت شاہ نے کہا، ’ہم ہر حال میں سی اے اے کو نافذ کریں گے، اس سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی مہم چلا رہے وزیر داخلہ امت شاہ مسلسل اپوزیشن پر حملے کر رہے ہیں۔ پیلی بھیت میں ایک ریلی میں انہوں نے سماج وادی پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’اعظم خاں، عتیق احمد، مختار انصاری سبھی جیل میں ہیں۔ اگر اکھلیش کی حکومت بنتی ہے تو وہ جیل میں نہیں ہوں گے۔
اویسی کا مسلمانوں میں مقبولیت ہے
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی کے یوپی میں اثر کے بارے میں وزیر داخلہ امت شاہ نےکہا کہ اسدالدین اویسی پورے ملک میں دورہ کرتے ہیں اور بیشتر مسلمانوں کو خطاب کرتے ہیں۔ ہر بار الیکشن میں AIMIM کو ووٹ بھی ملتا ہے۔ ایسے میں کسی ایک حادثہ کو لاء اینڈ آرڈر سے نہیں جوڑنا چاہئے اور یہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ تب ہوتا، جب ہم کارروائی نہیں کرتے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دو گھنٹے میں دونوں ملزمین کو پکڑ کر ہم نے قانون کا حوالہ کردیا۔ امت شاہ نے کہا کہ ہم نے اسدالدین اویسی کو سیکورٹی دینے کا فیصلہ کیا۔ سیکورٹی ہر ایک شخص کو ملنا چاہئے اور مسلمانوں میں اسدالدین اویسی کی مقبولیت تو ہے ہی۔
ڈریس کوڈ پر سبھی لوگ عمل کریں
کرناٹک میں حجاب تنازع اور یونیفارم سول کوڈ تنازع پر مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اسکول کے ڈریس کوڈ کو سبھی مذاہب کے لوگ مانیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ عدالت جو فیصلہ دے، اسے ماننا چاہئے۔
مسلمانوں کے ساتھ وہی رشتہ ہے، جو حکومت کا ہونا چاہئے
مسلمانوں کے ساتھ وہی رشتہ ہے، جو حکومت کا ہونا چاہئے۔ الیکشن میں کون ووٹ دیتا ہے، وہ بھی تو دیکھنا پڑتا ہے۔ ووٹ بینک کے لحاظ سے ہم نہیں دیکھتے ہیں۔ جن کا حق، ان کے ساتھ حکومت پر ہم چلتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ہر منصوبہ کا لوگوں کو فائدہ مل رہا ہے۔ پہلے دو کروڑ 62 لاکھ گھروں میں بیت الخلا نہیں تھا۔ ہم نے یوپی میں ایک کروڑ 41 لاکھ گھروں میں بجلی پہنچائی ہے۔ اس کے علاوہ دو کروڑ 68 لاکھ ایل ای ڈی بلب تقسیم کئے۔ 15 کروڑ غریبوں کو دو سال سے مفت راشن دی، 42 لاکھ لوگوں کو رہائش گاہ (آواس) دینے کا کام ہوا۔ اب 2024 تک ہر آدمی کو گھر دینے کا ہدف ہے۔
بی جے پی حکومت میں سبھی کو ہوا فائدہ
وزیر داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ اترپردیش میں بی جے پی حکومت کی مدت کے دوران سبھی مذاہب اور ذات پات کے لئے ترقی کے منصوبوں پرکام ہوا۔ انہوں نے مرکز اور ریاست کے منصوبوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے کسانوں، نوجوانوں، خواتین سبھی طبقات کے لئے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں مانتا کہ ہندو – مسلمان کی تقسیم ہے۔ پولرائزیشن ضرور ہو رہا ہے۔ غریب، کسان کابھی پولرائز ہو رہا ہے۔ بی جے پی کے دور اقتدار میں کسانوں کو کسان کلیان ندھی کا پیسہ مل رہا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ کسان آندولن کی وجہ سے کسانوں میں غصہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ذریعہ کسانوں کے درمیان پرسپشن بنانے کی کوشش ہوئی، لیکن کسان بی جے پی کے ساتھ ہے۔ یوپی الیکشن میں کسان آندولن کا اثر نہیں ہوگا اور بی جے پی مکمل اکثریت سے اقتدار میں واپسی کرے گی۔
پانچ ریاستوں میں بی جے پی کو ہوگا فائدہ
وزیر داخلہ امت شاہ نے یوپی کے ساتھ ساتھ ملک کے چار دیگر ریاستوں میں ہو رہے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی اچھی کارکردگی کی وجہ بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں بی جے پی تین سو سے زیادہ سیٹیں جیت کر اقتدار میں واپسی کرے گی۔ ساتھ ہی دوسری چار ریاستوں میں بھی بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ آپ کو بتادیں کہ یوپی کے علاوہ اتراکھنڈ، گوا، پنجاب اور منی پور میں بھی اسمبلی انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔










