نئی دہلی :(ایجنسی)
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی بھی اس بار اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں زور شور سے لگے ہوئے تھے، لیکن ان کی پارٹی کو مسلمانوں کے ووٹ بھی نہیں ملے۔
اویسی کی پارٹی کو صرف 0.49 فیصد ووٹ ملے۔ اویسی کے زیادہ تر امیدواروں کو پانچ ہزار ووٹ بھی نہیں ملے ہیں۔ اویسی نے اتر پردیش میں کل 100 امیدوار کھڑے کیے تھے۔ انہوں نے مغربی اتر پردیش میں دلت مسلم فارمولہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن کامیابی نہیں ملی۔
انتخابی نتائج کے بعد اویسی نے کہا، ’اتر پردیش کے لوگوں نے بی جے پی کو اقتدار سونپ دیا ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ میں اپنی پارٹی کے لوگوں کا یوپی انتخابات میں کی گئی محنت کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم اتر پردیش کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا۔ جو بھی نتائج آئے ہیں وہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہیں۔ لیکن ہماری کوششیں جاری رہیں گی۔
اویسی نے کہا، ’جو سیاسی پارٹیاں اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ای وی ایم – ای وی ایم کر رہی ہیں۔ میں نے 2019 میں بھی کہا تھا کہ قصور ای وی ایم کا نہیں ہے، بلکہ لوگوں کے دماغ میں جو خاموشی ڈال دی گئی ہے ، اس کا اہم کردار ہے ۔ انہیں کامیابی ضرور ملی ہے لیکن یہ 80 اور 20 کی کامیابی ہے۔ ہم اپنا کام پہلےسے کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ میری پارٹی کے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ حوصلہ بلند رکھیں۔
80 بمقابلہ 20 کے بارے میں، اویسی نے کہا،’جو نتائج آئے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ کوئی ووٹ منتقل نہیں ہوا ہے۔ اتر پردیش میں اقلیتی برادری کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ جو ہجوم آپ دکھا رہے تھے اس کا کیا ہوا؟ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ سماج وادی اتحاد بی جے پی کو ہرا نہیں سکتا۔ میں پھر امید کروں گا کہ کوئی ان کو دھوکہ نہیں دے گا۔ اس بار الیکشن ہوں گے تو لوگ ہماری بات پر توجہ دیں گے۔
اویسی نے کہا کہ انہوں نے ایک خاص برادری کا ووٹ لیا لیکن وہ کثیر رنگی اتحاد کی بات کر رہے ہیں۔ اویسی نے کہا کہ یہ 80 بمقابلہ 20 معاملہ ہوا ہے اور ہندوستان میں 80 بمقابلہ 20 کا ماحول بہت طویل عرصے تک چلنے والا ہے ۔










