بلرام پور :(ایجنسی)
اگر ریاست میں ہماری حکومت بنتی ہے تو اقلیتی وزیر اعلیٰ بنے گا۔ اس کے ساتھ دو نائب وزیر اعلیٰ بھی بنائے جائیں گے۔ کچھ پارٹیاں ہمیں بی جے پی کی بی ٹیم بتاتی ہیں۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ 2017 میں اگر میری پارٹی نے ریاست میں الیکشن نہیں لڑا تو بی جے پی بھاری اکثریت سے کیسے جیتی؟ مسلمانوں کو بی جے پی کا خوف دکھا کر ووٹ لینے والوں نے مسلم کمیونٹی کی بہتری کے لیے کیا کیا؟یہ بات جگ ظاہر ہے۔
یہ باتیں اے آئی ایم آئی ایم کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے ہفتہ کو اترولا نگر کے بردہی بازار میدان میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کے درمیان مسلم ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے بی جے پی اقتدار میں آتی ہے۔ ہماری کمیونٹی کے ٹھیکیدار ہمارے ووٹوں کا سودا کرتے ہیں۔ ہم نے سڑک سے پارلیمنٹ تک آئین کے دائرے میں رہ کر اقلیتوں، دلتوں اور پسماندہ طبقے کے لوگوں کے لیے جنگ لڑی ہے۔ وراثتی سیاست کی وجہ سے ایس پی کے اکھلیش یادو اور کانگریس کے راہل گاندھی سیاست کی زمینی حقیقت کو نہیں جانتے۔ انہوں نے 12ویں پاس کرنے کے بعد انٹر میں داخلہ لینے والے مرکزی وزیر داخلہ کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مودی نے کھیتوں میں آوارہ جانور چھوڑدیا ہےتو دوسری طرف عجیب شخصیت والے وزیر داخلہ کو انٹرٹنمنٹ کے لیے ہمارے درمیان بھیج دیا ہے ۔
انہوں نے وزیر اعظم کو سب سے بڑا جھوٹ بولنے والا بتاتے ہوئے کہا کہ توپ سے سب سے زیادہ جھوٹ پھینکنے کا ریکارڈ مودی کے نام درج ہے ۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پی پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر محمد ایوب نے کہاکہ سماجی برابری و ظالم حکومت کو ختم کرنے کے لئے ہم لوگ متحد ہو کر الیکشن لڑرہے ہیں۔ جو لوگ ہماری برابری نہیں کر پارہے ہیں وہی لوگ جھوٹے الزام لگا رہے ہیں۔ دونوں لیڈروں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اتراولہ اسمبلی حلقہ سے پارٹی امیدوار ڈاکٹر عبدالمنان کی حمایت کریں اور ووٹ دیں۔ جلسہ عام سے ریاستی صدر حاجی شوکت علی، مہاراشٹر کے ریاستی صدر سید معین، عارف حسن، بہار کے ایم ایل اے اختر الامام اور ڈاکٹر شائستہ زیبی نے خطاب کیا۔










