نئی دہلی :
کورونا بحران کے درمیان دہلی میں آکسیجن پر پیدا ہوئے تنازع پر آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس ) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے کہاکہ یہ کہنا صحیح نہیں ہو گا کہ دہلی سرکار نے کورونا کی دوسری لہر کے دوران آکسیجن کی مانگ کو چار گنا بڑھا چڑھا کر دکھایا ۔
ڈاکٹر گلیریا اسی آڈٹ کمیٹی کیقیادت کر رہے ہیں ، جس کی عبوری رپورٹ نے اس سارے تنازع کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے انگریزی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو ہفتہ کو بتایا کہ دہلی آکسیجن آڈٹ ایک عبوری رپورٹ ہے ۔ ہمیں حتمی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آکسیجن کی مانگ چار گنا بڑھا کر دکھایا گیا؟ انہوں نے جواب دیا، مجھے نہیں لگتا ہے کہ ہم یہ بات فی الحال کہہ سکتے ہیں۔‘ ان کے مطابق معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ ہمیں انتظار کرنا ہوگا اور دیکھنا ہوگاکہ آخرکار کورٹ کیا کہتی ہے ۔ فعال معاملوں اور دیگر سرکاروں کی کم گنتی پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
دراصل راجدھانی کے اسپتالوں میں آکسیجن کی کھیپ کی آڈٹ کے لیے سپریم کورٹ نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ اس کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھاکہ کووڈ 19-کی دوسری لہر کے دوران دہلی سرکار نے ضرورت سے چار گنا زیادہ آکسیجن کی مانگ کی تھی۔ بی جے پی نے اسے لے کر اروند کیجریوال سرکار پر ’’ مجرمانہ غفلت‘‘ کا الزام لگایا تو وہیں عام آدمی پارٹی (آپ) نے بی جے پی پر ایسی رپورٹ تیار کرنے کا الزام لگایا۔
دہلی سرکار کے ذریعہ کورونا وائرس انفیکشن کی دوسری لہر کے دوران قومی راجدھانی میں آکسیجن کی مانگ کو بڑھا چڑھا کر بتائے جانے والی ایک رپورٹ کے سامنے آنے پر وزیر اعلیٰ کیجریوال نے جمعہ کو کہاکہ ان کا ’جرم ‘ صرف اتنا ہے کہ انہوں نے دو کروڑ لوگوں کو سانس دینے کے لیے لڑائی لڑی۔ دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے کہاکہ عدالت عظمیٰ کے ذریعہ تشکیل شدہ ’ آکسیجن آڈٹ کمیٹی ‘ نے ایسی کسی رپورٹ کو منظوری نہیں دی ہے ، جس میں یہ کہا گیا ہو کہ کووڈ19-کی دوسری لہر کے دوران دہلی سرکار نے ضرورت سے چار گنا زیادہ آکسیجن کی مانگ کی تھی۔










