پاکستان کی حکومت نے پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے، تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے اور عمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل چھ کی کارروائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے۔
پیر کو وفاقی اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو پاکستان تحریک انصاف اور ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے جا رہے ہیں، حکومت کا مطالبہ ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جائے، وفاقی حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے جب کہ ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ (پی ٹی آئی) کچھ بھی کریں، ملک کے خلاف سازش کریں، فارن فنڈنگ لیں، بیرون ملک لابنگ کریں، فرمز ہائی کریں، پاکستان کے خلاف قراردادیں پاس کروائیں، سائفر کا ڈرامہ رچائیں، نو مئی کے حملے کریں، ملک کو ڈیفالٹ کرنے کی کوشش کریں، آپ کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، ملک میں ایسا تاثر دیا جا رہا ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’ایک مخصوص ذہنیت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، ہماری اعلیٰ قیادت اور خواتین کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ ہمارے تحمل اور برداشت کو کمزوری سمجھا گیا، اس کا بھرپور جواب دوں گا، بس بہت ہو گیا، اب مزید نہیں، پاکستان تحریک انصاف اور ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
دریں اثناپاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان کی جانب سے عطا تارڑ کی پریس کانفرنس پر ردِ عمل دیتے ہوئے اسے ’مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے نتیجے میں ملنے والی شرمندگی مٹانے کی مکروہ کوشش‘ قرار دیا ۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مینڈیٹ چوروں اور ان کے سرپرستوں کی ہر سازش کا عوامی تائید و حمایت سے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔’ذلت اور شکست سے بری طرح گبھرایا ہوا اور دہشت زدہ مجرم حکومتی ٹولہ اپنی دھمکیوں سے 24 کروڑ عوام کو ڈرانا چاہتا ہے۔‘









