آئیے جانتے ہیں کہ اوسلو معاہدہ کیا ہے اور اس کی بنیادی دفعات کیا ہیں؟اوسلو معاہدے، یا اوسلو ون جسے باضابطہ طور پر عبوری خود مختاری کے اصولوں کے اعلان کے نام سے جانا جاتا ہے ایک امن معاہدہ ہے جس پر اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے 13 ستمبر 1993 کو واشنگٹن میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے کا نام ناروے کے شہر اوسلو کے نام پر رکھا گیا تھا جہاں 1991ء میں امریکا کی سرپرستی میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے تھے۔ اس کے نتیجے میں یہ معاہدہ میڈرڈ کانفرنس کے نام سے جانا جاتا تھا۔
بنیادی اصولوں کا اعلان
فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ معاہدہ 17 نکات پر مشتمل ہے۔ اس کا آغاز فلسطینی خود حکومتی اختیاری انتظامات کے اصولوں کے اعلامیے سے ہوتا ہے اور اختتام تنازعات کے تصفیے اور علاقائی پروگراموں کے حوالے سے اسرائیل-فلسطینی تعاون پر ختم ہوتا ہے۔
’پی ایل او‘ کے اس وقت کے سربراہ یاسر عرفات نے خود کو اسرائیل کی ریاست کے امن اور سلامتی کے ساتھ رہنے کے حق اور مستقل حیثیت سے متعلق تمام بنیادی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا عہد کیا تھا۔
اصولوں کا یہ اعلامیہ تشدد سے پاک دور کا آغاز تھا۔ اسی مناسبت سے PLO دہشت گردی کے استعمال اور تشدد کی دیگر کارروائیوں کی مذمت کرتی اور اس تبدیلی کی تعمیل کے لیے قومی چارٹر کی دفعات میں ترمیم کرنے کی پابند تھی۔ پی ایل او کے تمام ممبران کو اس صورتحال کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکنا اور انہیں گرفتار کرنا تھا۔
اسرائیلی حکومت نے اپنے اس وقت کے وزیر اعظم یتحاک رابن کے ذریعے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو فلسطینی عوام کی نمائندہ کے طور پر تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
عبوری خود مختار اتھارٹی کا قیام
اصولوں کے اعلامیے میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے لیے عبوری مدت کےدوران فلسطینی عبوری خود مختار اتھارٹی اور ایک منتخب قانون ساز کونسل کے قیام کی شرط رکھی گئی تھی۔ یہ ایک عبوری حکومت اور انتظامیہ تھی جسےاقوام متحدہ کی قراردادوں 242 اور 338 کی رو سے پانچ سال کے اندر مستقل معاہدے تک پہنچنے کا اختیار دیا گیا تھا۔
معاہدے میں یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ ان مذاکرات میں سلامتی کے انتظامات، سرحدوں، بین الاقوامی تعلقات اور دوسرے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کے علاوہ یروشلم، پناہ گزینوں اور یہودی بستیوں سمیت باقی ماندہ امور کو حل کیا جائے گا۔

اوسلو (2)
ان معاہدوں کے بعد مزید معاہدوں اور پروٹوکولز جیسے کہ غزہ-جیریکو معاہدہ اور پیرس اقتصادی پروٹوکول طے پائے جو کہ اوسلو (2) نامی معاہدے میں شامل تھے۔
اوسلو (2) پر 4 مئی 1994 کو قاہرہ میں دستخط کیے گئے، جس میں 11 نکات شامل تھے۔ ان میں اسرائیلی فوجی دستوں کا شیڈول انخلاء، اختیارات کی منتقلی، فلسطینی اتھارٹی کی ساخت اور تشکیل اور امن عامہ اور سلامتی کے انتظامات شامل تھے۔غزہ کی پٹی اور جیریکو [اریحا] کے علاقے کے درمیان ایک محفوظ راہداری کے قیام کے علاوہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تعلقات کے مندرجات شامل تھے۔









