تحریر:حامد میر
لعلاء المعری عربی زبان کے ایک عظیم شاعر اور فلسفی تھے ۔ 2009ء میں ایک مسیحی پادری نے غزہ میں مجھے اس ہاسپٹل کے بارے میں بڑے فخر سے بتایا تھا کہ یہ غزہ کاسب سے پرانا ہاسپٹل ہے۔جو 1882ء میں قائم ہوا۔چرچ آف یروشلم اس ہاسپٹل کیلئے دنیا بھر سے امداد اکٹھی کرتا ہے اور یہاں سب مذاہب کے پیروکاروں کو بغیر کسی تفریق طبی امداد فراہم کی جاتی ہے ۔17اکتوبر 2023ء کو اس تاریخی ہاسپٹل پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں مریض، ڈاکٹر اور نرسیں مارے گئے ،جس پر پوری دنیا میں اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے لیکن اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے بڑی ڈھٹائی سے العاہلی عرب ہاسپٹل پر حملے کی ذمہ داری اسلامک جہاد پر ڈال دی ہے ۔العاہلی عرب ہاسپٹل پر حملے کے بارے میں اسرائیل کے خلاف ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں لیکن خاطر جمع رکھئے۔ اقوام متحدہ یا انسانی حقوق کے کسی بھی عالمی ادارے کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔سب سے بڑی وجہ تو عرب ممالک کا جرم ضعیفی ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے پہلی دفعہ کسی ہاسپٹل پر بمباری نہیں کی میں نے 2006ء میں لبنان کے کئی شہروں اور 2009ء میں غزہ کے کئی ہاسپٹلز پر اسرائیلی بمباری اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔اسرائیل کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی ) نے کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ اسرائیل ان 123ممالک میں شامل نہیں ہے جنہوں نے آئی سی سی کے کنونشن پر دستخط کئے ۔ذرا یہ بھی یاد کر لیجئے کہ صرف اسرائیل نہیں بلکہ امریکُہ روس وغیرہ بھی ہاسپٹلز پر باقاعدہ حملے کر چکے۔3 اکتوبر 2015ء کو امریکی ایئر فورس نے افغانستان کے شہر قندوز کے ایک ٹروما ہاسپٹل پر بمباری کی جس میں 42مریض اور ڈاکٹر مارے گئے۔ 9مارچ 2022ء کو روسی فوج نے یو کرائن کے شہر ماریو پول کے ایک میٹرنٹی ہاسپٹل پر حملہ کیا جس میں کئی بچے مارے گئے ۔ان ممالک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی کیونکہ یہ ممالک آئی سی سی کے کنونشن کو نہیں مانتے۔ آئی سی سی نے یوکرائن میں روس کے جنگی جرائم کے خلاف تحقیقات ضرور شروع کیں اور روس کے خلاف شہادتیں اکٹھی کرنے کیلئے ایک فنڈ بھی بنایا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے ماریو پول کے میٹرنٹی ہاسپٹل پر حملے کے بعد پیوٹن کو جنگی مجرم بھی قرار دیا لیکن یہی جوبائیڈن غزہ کے العاہلی عرب ہاسپٹل پر حملے کے بعد اسرائیل کا دورہ کرتا ہے اور حماس کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔
مسجد اقصیٰ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے سینکڑوں سال قبل صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا تو کچھ عرصہ بعد برصغیر کے معروف صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ بھی وہاں پہنچ گئے ۔انہوں نے وہاں پر چالیس دن کا چلہ کاٹا تھا انہوں نے یروشلم میں جس جگہ قیام کیا اور چلہ کاٹا وہ جگہ سرائے الہندی کہلاتی ہے ۔ اس سرائے کا انتظام 1991ء کے بعد بھارتی حکومت کے پاس ہے ۔غزہ میں ہونے والاظلم و ستم مسلمانوں کیلئے ایک پیغام ہے۔ آج فلسطینی ظلم کا نشانہ ہیں تو کل کو جرم ضعیفی کی سزا کسی اور کو ملے گی۔ رئیس امروہوی نے ایک دفعہ پوچھا تھا؎
جو اہل فلسطین کو خطرے سے بچائے
وہ عزم وہ تحریک وہ اقدام کہاں ہے
اب عالم اسلام کو اٹھنے کی ضروت
بیشک ہے مگر عالم اسلام کہاں ہے؟








