,
تحریر:یولاند نیل
اسلام کے مقدس مہینے رمضان کا آغاز ہونے والا ہے لیکن اس دوران یروشلم میں تشدد پھیلنے کے نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ حماس کے خلاف اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی ابھی تک کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ہے-حماس نے فلسطینیوں سے کہا ہے کہ وہ اس مقدس مہینے کے دوران مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔
اسرائیل نے حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’رمضان کے دوران خطے کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘مسجد اقصی اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے جسے قبلہ اول بھی کہا جاتا ہے اس مقام کو یہودی بھی اپنا مقدس ترین مقام مانتے ہیں اور اسے ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے پکارتے ہیں۔

آیت نامی ایک خاتون نے افسردگی کے ساتھ کہا کہ ’ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ رمضان آ رہا ُہے‘
اس دوران رمضان کے آغاز پر 40 روزہ جنگ بندی کے آثار معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ تاہم مصری ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالث اتوار کو حماس کے ایک وفد سے دوبارہ ملاقات کریں گے تاکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے
اسرائیل نے سنیچر کے روز کہا کہ اس کے جاسوسی کے سربراہ نے اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کی ہے کیونکہ اور وہ اپنے درجنوں یرغمالیوں کو رہا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ حماس ’اپنے موقف پر قائم ہے‘ گویا اسے ’کسی معاہدے میں دلچسپی نہیں ہے۔‘
ایک منصوبے کے فریم ورک پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت کچھ اسرائیلی یرغمالیوں کو چھڑانے کی بات کی جا رہی ہے جنھیں حماس نے یرغمال بنایا تھا اور اقوام متحدہ کی طرف سے قحط کے انتباہات کے درمیان امداد میں اضافہ بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔
اپنے سکوٹر پر مسجد اقصٰی آنے والے ابو نادر نے کہا کہ ’یہ رمضان مشکل ہوگا۔ ہم غزہ میں اپنے ہم وطنوں کی صورت حال کے درمیان اپنا روزہ کیسے افطار کریں گے اور کیسے کھائیں گے۔
’ہم خدا سے بہتر حالات کی دعا کرتے ہیں۔‘
اسرائیلی پولیس ہمیشہ کی طرح مسجد اقصیٰ کے وسیع احاطے کے ارد گرد گشت کرتی نظر آتی ہے اور ہر دروازے پر اسرائیلی پولیس افسران موجود ہیں جو مسجد میں کسی کے داخلے پر کڑی نگرانی رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اردن سے پرانے شہر کے اس حصے سمیت مشرقی یروشلم پر قبضہ کر کے اسے اپنے میں ضم کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ جگہ فلسطینیوں کی وسیع جدوجہد کی ایک نمایاں علامت بن گئی ہے۔
سنہ 2000 میں اس وقت کے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر ایریل شیرون کے مقدس پہاڑی کی چوٹی کے دورے کو ’دوسرے انتفادہ‘ کے ایک اہم محرک کے طور پر دیکھا گیا۔
یہاں اکثر اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینی نمازیوں کے درمیان خاص طور پر رمضان کے دوران جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔
جب بھی پرانے شہر میں اسرائیلی قوم پرستوں کے مارچ ہوتے ہیں تو یہاں کشیدگی بڑھ جاتی ہے، اور اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کی طرف سے اس جگہ پر طویل عرصے سے قائم انتہائی حساس مذہبی جمود کے قوانین کو تبدیل کرنے کے مطالبات کے درمیان یہاں یہودی زائرین کو زیارت کی اجازت تو ہوتی ہے لیکن عبادت کی نہیں۔
مئی سنہ 2021 میں یروشلم میں کشیدگی اتنی بڑھ گئی تھی کہ الاقصیٰ میں پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ اس کے بعد حماس نے یروشلم پر راکٹ فائر کیے، جس سے غزہ میں ایک چھوٹی سی جنگ بپا ہو گئی تھی اور یہودیوں اور عرب اسرائیلیوں کے درمیان وسیع پیمانے پر بدامنیپھیل گئی
یہ رمضان کیسے گزرتا ہے اس کا انحصار غزہ میں ہونے والے واقعات اور اسرائیل کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں پر ہے۔
انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن غفیر نے مسلمان اسرائیلی شہریوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حماس کو ’فتح کا جشن منانے‘ سے روکنے کے لیے ہے کیونکہ بہت سے اسرائیلی یرغمالی ابھی بھی غزہ میں قیدمیں ہیں۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مسجد اقصیٰ میں کتنے لوگوں کو جانے کی اجازت ہوگی۔
عام طور پر اس مقدس مہینے میں نماز جمعہ میں شرکت کے لیے دسیوں ہزار مسلمان اسرائیلی فوجی چوکیوں سے گزرتے ہیں۔
نہری رنگ کے ڈوم آف دی راک کے سامنے میری ملاقات اسلامی وقف کونسل کے رکن ڈاکٹر امام مصطفیٰ ابو سوی سے ہوئی۔ یہ تنظیم مسجد اقصیٰ کا نظم و نسق دیکھتی ہے۔ڈاکٹر امام مصطفیٰ نے کہا کہ ’کچھ سال پہلے تک اسرائیل عملی طور پر ہر اس شخص کو جو مغربی کنارے سے یہاں آنا چاہتا تھا اس کو آنے کی اجازت دیتا تھا اور اس دوران بدمزگی کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا۔
’لوگ تو یہاں صرف عبادت کرنے آتے ہیں۔ وہ امن کو خراب کرنے نہیں آتے۔ اگر اسرائیلی پولیس اور سکیورٹی فورسز انھیں تنہا چھوڑ دیں تو امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘اگر صورت حال یونہی رہی تو رواں سال ساری دنیا پہلے سے زیادہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ یروشلم میں کیا ہوتا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مسجد اقصیٰ میں کتنے لوگوں کو جانے کی اجازت ہوگی۔
عام طور پر اس مقدس مہینے میں نماز جمعہ میں شرکت کے لیے دسیوں ہزار مسلمان اسرائیلی فوجی چوکیوں سے گزرتے ہیں۔
نہری رنگ کے ڈوم آف دی راک کے سامنے میری ملاقات اسلامی وقف کونسل کے رکن ڈاکٹر امام مصطفیٰ ابو سوی سے ہوئی۔ یہ تنظیم مسجد اقصیٰ کا نظم و نسق دیکھتی ہے۔ڈاکٹر امام مصطفیٰ نے کہا کہ ’کچھ سال پہلے تک اسرائیل عملی طور پر ہر اس شخص کو جو مغربی کنارے سے یہاں آنا چاہتا تھا اس کو آنے کی اجازت دیتا تھا اور اس دوران بدمزگی کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا۔
’لوگ تو یہاں صرف عبادت کرنے آتے ہیں۔ وہ امن کو خراب کرنے نہیں آتے۔ اگر اسرائیلی پولیس اور سکیورٹی فورسز انھیں تنہا چھوڑ دیں تو امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘اگر صورت حال یونہی رہی تو رواں سال ساری دنیا پہلے سے زیادہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ یروشلم میں کیا ہوتا ہے۔









