نئی دہلی : (ایجنسی)
پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد اب پانڈورا پیپرز نے سنسنی پیدا کردی ہے۔ پانڈورا پیپرز کے مطابق جو 12 ملین دستاویزات کی جانچ کے بعد سامنے آئے، پانڈورا پیپرز کے مطابق دنیا کے کئی امیر اور طاقتور لوگوں حکومتوں کی نظرسے اپنی جائیداد کو چھپانے اور ٹیکس سے بچنے کے لئے مانی لانڈرنگ کا سہارا لے رہے ہیں ۔
3 اکتوبر کو جاری ہونے والے پانڈورا پیپرز میں 300 سے زائد بھارتی نام ہیں ، جن میں سے 60 ممتاز افراد اور بڑی ہندوستانی کمپنیوں کے دوسرے ممالک میں موجود یا ’’آف شور اکاؤنٹس‘‘ کی جانچ کی گئی ہے۔
پانڈورا پیپرز کے انکشاف میں بھارت کی طرف سے ’انڈین ایکسپریس ‘ جانچ میں شامل رہا۔ پانڈورا پیپرز پر انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی کارپوریٹ ڈیفارڈروںسے لے کر ٹاپ بزنس مین تک ، سی بی آئی- ای ڈی کے کیس میں شامل ملزمین سے لے کر مشہور ہستیوں تک ۔ جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنی جائیداد کو سرکار سے چھپانے کے لیے دوسرے ممالک میں اپنے پیسے بھیجے ہیں ۔
تقریباً12 ملین لیک ہونے والی دستاویزات کی جانچ کی بنیاد پر پانڈورا پیپرز نے انکشاف کیا کہ دنیا کے کئی امیر اور طاقتور لوگ دولت چھپا رہے ہیں۔
یہ لیک ہونے والا ڈیٹا واشنگٹن ڈی سی میں قائم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے)کے ذریعہ حاصل کیاگیا تھا۔ اس نے اب تک کی سب سے بڑی عالمی جانچ پر 140 سے زیادہ میڈیا تنظیموں کے ساتھ کام کیا۔
117 ممالک میں سے 600 سے زائد صحافیوں نے ان دستاویزات کی مہینوں تک جانچ کی اور اب آنے والے ہفتوں میں اس کا انکشاف کریں گے ۔ بھارت کی طرف سے پانڈورا پیپرز انکشاف میں ’انڈین ایکسپریس ‘ لیا ہے ۔
پانڈورا پیپرز انکشاف میں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم نے 14 ذرائع سے دستاویزات حاصل کی ہیں اور پوری دستاویز کا سائز تقریباً2.94ٹی بی ہے ۔










