اترپردیش کے بریلی میں اتوار کانوڑ یاترا کے غیر روایتی راستے پر ہوئے تنازعہ اور ہنگامے کو روکنے کے لیے پولس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ ضلع کے ایس ایس پی پربھاکر چودھری نے لاٹھی چارج کر کے حالات کو خراب ہونے سے روکا اور شہر کا امن و امان بحال کرایا، اس لاٹھی چارج کے 4 گھنٹے بعد ہی ایس ایس پی پربھاکر چودھری کے تبادلے کے آرڈر آئے۔ انہیں بریلی کے ایس ایس پی کے عہدے سے ہٹا کر 32ویں کور پی اے سی میں کمانڈنٹ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد سے سوشل میڈیا سے عام لوگوں کی زبان پر اس منتقلی کو لے کر بحثوں کا بازار گرم ہے۔
لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ کانوڑیوں پر لاٹھی چارج کی وجہ سے ان کا تبادلہ ہوا ہے۔ پی اے سی میں ایس ایس پی کے عہدے سے کمانڈنٹ کے عہدے پر تبادلے کو سزا تصور کیا جا رہا ہے۔ اس پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کیونکہ پربھاکر چودھری نے مارچ میں ہی بریلی کے ایس ایس پی کا چارج سنبھال لیا تھا۔
حالانکہ اتر پردیش حکومت نے اتوار کو ریاست کے پولیس نظام میں کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ سرکاری اہلکار اسے ایک عام انتظامی منتقلی کہہ رہے ہیں۔ اتر پردیش کی حکومت نے اتوار کو 10 اضلاع کے پولیس سربراہوں سمیت 14 انڈین پولیس سروس افسران کا تبادلہ کر دیا۔ یوں تو 10 اضلاع کے ایس پی اور ایس ایس پی کو تبدیل کیا گیا ہے لیکن سب سے زیادہ چرچے بریلی کے ایس ایس پی رہ چکے پربھاکر چودھری کے ہو رہہے۔
میڈیا رپرٹس کے مطابق اتوار کو بریلی کے پرانے شہر کے محلہ جوگی نوادہ میں کانوڑ یاترا کے دوران ہنگامہ ہوا۔ جس کے بعد پولیس نے کانوڑیوں پر لاٹھی چارج کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کنواریوں کی کھیپ میں شامل کچھ کانوڑ یے غیر روایتی راستوں پر چل رہے تھے








