تحریر: محمد خالد
پارلیمانی انتخابات کا آغاز چکا ھے، سبھی سیاسی جماعتیں اور سیاست میں دلچسپی رکھنے والے افراد اپنے اپنے انداز میں سرگرم عمل ہیں. مضامین اور وڈیوز پیش کئے جا رھے ہیں. بہت سے لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر ملاقات و میٹنگ کا اہتمام کر رھے ہیں.
پارلیمانی انتخابات کے تعلق سے ہی محمد ادیب صاحب، سابق ایم پی کا ایک ویڈیو بہت تیزی سے مسلم سوشل میڈیا میں وائرل ہو رھا ھے.
ملک کے موجودہ حالات میں پارلیمانی انتخابات کا تقاضا ھے کہ اس کو جذبات سے نہیں بلکہ زمینی حقیقت کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی جائے.
اس ملک میں فرقہ واریت کی بنیادی وجہ ملک کی تقسیم ھے اور شاید یہ تقسیم جن مقاصد کے لئے کرائی گئی تھی ان کے ہی نتائج بہت تیزی سے سامنے آ رھے ہیں.
افسوس کہ ہمارے قائدین نے حالات کو سمجھنے کی اتنی کوشش نہیں کی جس کی ضرورت پہلے بھی تھی اور آج بھی ھے.
ملک آزاد ہونے کے بعد سے ہی ہمارے قائدین خصوصی طور پر سماجی قائدین نے اقتدار کی مخالفت اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھ رکھی ھے، ملکی معاملات سے بہت کم ہی تعلق رکھا گیا، صرف مسلم مسائل تک ہی قیادت محدود رہی ھے شاید یہ ماحول اس لئے بنا کہ تقسیم وطن کی وجہ سے شمالی ہند میں مسلمانوں کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا رھا ھے. مسلمانوں کی جان و مال کا تحفظ ایک بڑا مسئلہ ھے. سیکولر ازم کی دعویدار سیاسی جماعتوں نے ایسا ماحول بنایا ہوا ھے کہ مسلمان صرف ان کے رحم و کرم پر رہنا ہی اپنے لئے ضروری سمجھیں اور ان کی طرف سے جو راستہ مسلم قیادت کو دکھایا جائے اس پر بغیر کسی غور و فکر کے عمل کرتے رہیں. جس کی ایک مثال غالباً 89 – 1988 کا دور ھے جب پارلیمنٹ میں بی جے پی کے صرف دو ممبران تھے، اگلے پارلیمانی انتخابات کا آغاز ہونے والا تھا اس وقت مسلمانوں کے درمیان ایک نعرہ لگنا شروع ہوا کہ مسلمان اس کو ووٹ دے گا جو بی جے پی کو ہرانے کی پوزیشن میں ہو. اس نعرے کا اگر سنجیدگی اور دیانتداری کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو صاف ظاہر ہوگا کہ اس نعرے کے نتیجے میں مسلم سیاست دانوں کی راہ تنگ ہوتی گئی اور ان کی جگہ مسلم مفادات کے لئے سیکولر سیاست دانوں کو آگے بڑھانا ضروری سمجھا گیا. دھیرے دھیرے یہ سیکولر سیاست دان بھی اپنی زمین کھوتے رھے اور آج ملک کا جو سیاسی منظر نامہ ھے اس کو بتانے کی ضرورت نہیں ھے. حیرت انگیز بات یہ ھے کہ آج بھی چاھے گاؤں پردھان کا ہی الیکشن کیوں نہ ہو، مسلمانوں کے درمیان یہی نعرہ زور و شور سے لگایا جاتا ھے اور حد تو یہ ھے کہ اب مسلمانوں کی مذہبی جماعتیں بھی ہر الیکشن میں اس نعرے کے ساتھ میدان میں اتر جاتی ہیں. جس نعرے نے مسلم سیاسی طاقت کو اتنا کمزور کر دیا، برادران وطن میں یکجہتی کا ذریعہ بنا اور سب سے زیادہ نقصان دہ بات یہ کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک بڑی خلیج پیدا کر دی، اس نعرے سے آج بھی کس بنیاد پر وابستگی برقرار ھے. دین اسلام بھی اس کی اجازت نہیں دیتا کہ انسانوں کے درمیان تفریق پیدا کی جائے. مسلمان یوں تو اللہ، قرآن اور رسول کی بنیاد پر ایک مذہبی اجتماعیت ہیں مگر آئیے معاشرتی معاملات کے لحاظ سے ان کی کیفیت کو دیکھا جائے.
1. مسلک کے اعتبار سے مسلمان تقسیم کا شکار ہیں. مسلک کے علاوہ فکر و نظریہ کا اختلاف موجود ھے. اب ایک نئی شکل یہ بنی ھے کہ ہر مسلک اور نظریہ کے ماننے والوں کے درمیان کچھ لوگوں کو معتدل اور کچھ کو متشدد بتایا جاتا ھے. تنظیموں اور جماعتوں میں تفریق کی جاتی ھے.
2. اشراف اور اذلال کے نام پر تقسیم پائی جاتی ھے اور ان دونوں طبقات کے درمیان بھی تقسیم کا سلسلہ پایا جاتا ھے، جیسے سید، شیخ، پٹھان وغیرہ تو ساتھ ہی انصاری، منصوری، راعینی ، سلمانی وغیرہ وغیرہ.
3. علاقائیت کی بنیاد پر تفریق موجود ھے.
4. ادب اور تہذیب کی بنیاد پر نمایاں فرق پایا جاتا ھے، دہلوی اسکول، لکھنوی اسکول اور حیدرآبادی اسکول. اسی طرح طب یونانی میں دہلوی اور لکھنوی طریقہ کار کی تفریق. گرچہ یہ تمام باتیں انسانی فطرت سے تعلق رکھتی ہیں مگر مسلمانوں کے درمیان اپنے طور طریقوں کو افضل اور دوسروں کے طریقوں کو کم تر مانا جاتا ھے.
5. جنوبی ہند کے صوبوں میں مقامی زبان اور اردو زبان کا استعمال کرنے والوں کے درمیان فاصلہ پایا جاتا ھے.
ملک میں رہنے والے تمام لوگوں میں اس طرح کی معاشرتی تفریق موجود ھے مگر ان میں اور مسلمانوں میں ایک بہت بڑا فرق یہ ھے کہ دیگر اقوام میں چاھے جتنے اختلافی معاملات ہوں مگر ان کی مذہبی یکجہتی پر کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ مسلمانوں میں مخالف فکر رکھنے والوں کو اکثر اسلام سے ہی خارج کر دیا جاتا ھے.مسلمانوں میں تفریق کی ان کے علاوہ بھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کا انتخابات کے دوران مشاہدہ کیا جا سکتا ھے تو پھر کس بنیاد پر انتخابات میں مسلم ووٹ کے اتحاد کی بات کی جاتی ھے اور مسلم ووٹ کے اتحاد کے ذریعہ پارلیمنٹ کی 80 سے لے کر 125 تک سیٹ حاصل کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں.
ایک اور زاویہ سے انتخابات کو دیکھنے کی ضرورت ھے کہ انتخاب میں امیدوار کی ذات برادری کو کس وجہ سے اتنی اہمیت دی جاتی ھے جب کہ دیکھنے میں یہی آتا ھے کہ مختلف سیاسی پارٹیاں ایک ہی ذات اور برادری کے لوگوں کو اپنا امیدوار بناتی ہیں اور شاید یہ کیفیت سب سے زیادہ مسلم اکثریتی علاقوں میں نظر آتی ھے کہ مختلف سیاسی پارٹیاں مسلمان کو ہی اپنا امیدوار بناتی ہیں.
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں ضرورت ھے کہ انتخابات کے موقع پر مفروضات سے ہٹ کر زمینی کیفیت کو سامنے رکھا جائے اور ملک میں ہونے والے سبھی انتخابات میں ایک شہری کی حیثیت سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے.
انتخابات کے موقع پر ایک اور بہت عجیب بات دیکھنے میں آتی ھے کہ مسلمان بہت زور و شور سے اپنے اتحاد کی تو بات کرتے ہیں مگر غیر مسلم سیکولر افراد سے تعاون کی توقع رکھتے ہیں، اس کو ذہنی دیوالیہ پن کے علاوہ کیا نام دیا جا سکتا ھے.اپنی بات مسلم مجلس مشاورت کے بانی ڈاکٹر سید محمود صاحب کے انتہائی اہم تاثرات پر ختم کرتا ہوں.
*جو لوگ آگے بڑھ کر کوئی معرکہ سر کریں ان کو حق پہو نچتا ھے کہ وہ مستقبل پر اپنی پرچھائیاں ڈالیں اور غلط یا صحیح ملک اور سماج انہی کے کھینچے ہوئے خطوط پر چلنے لگتا ھے۔*
*آزادی کے بعد ملک کی تعمیر نو میں مسلمان بہت بڑا رول ادا کر سکتے تھے لیکن یہ زمانہ ان کے لیے اس لحاظ سے سخت تھا کہ اپنے زخموں کی مرہم پٹی سے ہی فرصت نہیں مل رہی تھی۔ پھر یہ بات بھی ان کے خمیر میں شامل ہو چکی تھی کہ وہ پچھلی صدی کی دفاعی پالیسی کو چھوڑ کر کسی اقدامی پالیسی کے لیے آمادہ بھی نہیں تھے اور ظاہر ھے کہ دفاع اور تحفظ کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ تحفظ چاہنے والا گروہ دوسرے درجہ کا شہری بن جائے۔*
*اقدام کو ترک کرنے اور دفاع کو قبول کرنے کے بعد علیحدگی پسندی کا مزاجوں میں رچ بس جانا ایک قدرتی سی بات ھے۔ یہ علحدگی پسندی کسی اور کے لیے مناسب ہوتو ہو مگر مسمانوں کے لیے جن کی حیثیت ایک مثالی اور آخری امت کی ھے یہ پوزیش ہرگز صحیح نہیں کہی جاسکتی۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی کسی قیمت پر صحیح نہیں ہوگی کہ علحدگی پسندی کے مقابلے میں ہم ملت کے ادغام، انضمام اور تحلیل کے لیے آمادہ ہو جائیں۔*
*خیال فرقت لیلی و الفت لیلی*
*غرض دو گونه عذاب است جان مجنوں را*
*ہم جن حالات سے گزر رھے ہیں اللہ تعالی ہمیں فکر و عمل کی صحیح اور متوازن نعمت سے نوازے۔ ہم ایک طرف علیحدہ رہنے کی وجہ سے فکری، ذہنی اور پھر سیاسی اور معاشی اعتبار سے پسماندہ رھے جا رھے ہیں۔ تو دوسری طرف اس علیحدگی کو دور کرنے کے لیے بعض گوشوں سے ایسی تدبیریں سوچی جا رہی ہیں جن سے ہم ایک حد تک صحیح طور پر خائف ہیں کہ ایک دو نسلوں کے بعد ہی ملت اپنی انفرادیت اور تشخص کھو دے اور اس کا وجود بس آثار قدیمہ اور تاریخ میں موجود رہ جائے اس لیے اس دو گونہ عذاب کے درمیان ہم کو اپنی راہ تلاش کرنی چاہیے ۔ ان سب خطرات اور اندیشوں کے پیش نظر بھی اور ملت کے حقیقی مقام کے تقاضے کے طورپر بھی میرا واضح خیال بلکہ یقین ھے کہ یہ وقت انتہائی ٹھنڈے دماغ سے سوچنے اور انتھک کام کرنے والے ہاتھ پاؤں سے سرگرم ہو جانے کا ھے۔ صبر و تحمل اور توکل و عزیمت کے ساتھ اٹھنے کا۔ فروعی مسائل میں الجھنے کے بجائے بنیادی امور پر اپنی توجہات لگا دینے کا اور اللہ تعالی کی کار فرمائی پر بھروسہ کرنے کا ھے کہ اگر ہم نے نیک نیتی اور حوصلہ مندی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھا تو آخرت کا اجر تو ان شاء اللہ ملے گا ہی اس دنیاوی زندگی میں بھی پاک پروردگار اپنی رحمتوں اور انعامات سے محروم نہیں کرے گا۔*
ڈاکٹر سید محمود
ندائے ملت 20 جولائی 1962









