نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ (یکم اپریل) کو رمضان المبارک کے آنے والے اسلامی مقدس مہینہ کے دوران نماز ادا کرنے کے لئے مرکز نظام الدین میں مسجد کمپلیکس کی پانچوں منزلوں کو پھر سے کھولنے کی اجازت دے دی ۔
16 مارچ کو ہائی کورٹ نے شب برأت کے پیش نظر مسجد کو اسی طرح کے شرائط کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی تھی۔ کیمپس میں کووڈ کے مثبت معاملات میں اضافے کے بعد مرکز 3 مارچ 2020 سے بند ہے۔
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق جسٹس جسمیت سنگھ نے رمضان کے دوران پابندیوں میں راحت دینے کی دہلی وقف بورڈ کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ کووڈ پروٹوکول اور سماجی دوری کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تبلیغی سرگرمیوں سمیت کوئی بھی لیکچر کمپلیکس میں نہیں ہو سکتا اور ہدایت کی کہ صرف نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ ا نہوں نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ ہر منزل پر سی سی ٹی وی کیمروں سے بھیڑ کی نگرانی کریں گے۔
دریں اثنا، دہلی پولیس نے مرکز کے انتظامیہ سے داخلی اور خارجی دروازوں کے ساتھ ساتھ ہر منزل کی سیڑھیوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کو دوبارہ نصب کرنے کو کہا ہے۔
16 مارچ کو نمازیوں کو شب برأت کی اجازت دیتے ہوئے، عدالت نے کہا تھا، ’ایک بار جب وہ کہتے ہیں کہ وہ کووڈ پروٹوکول بنائے رکھیں گے تو یہ ٹھیک ہے ۔ اسے عقیدتمندوں کی صواب دید پر چھوڑ دیا جانا چاہئے ۔ حالانکہ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے رہنما خطوط کے مطابق، ہر منزل پر سو سے کم لوگوں کو ہی اجازت دی جا سکتی ہے۔










