اسرائیلی فورسز نے اتوار کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع فلسطینی طلبہ کے پرائمری اسکول کو حفاظتی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے منہدم کردیا ہے ،یورپی یونین نے اس اقدام پرکڑی تنقید کی ہے۔یورپی تنظیم ہی نے اسکول کی عمارت کی تعمیر کے لیے رقم مہیّا کی تھی۔
اسرائیلی فوج نے بیت لحم کے قریب واقع گاؤں جببت الذہیب میں اسکول کو مسمار کرنے کے لیے بلڈوزروں سے کارروائی کی ہے اور اس کی مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں پراشک آورگیس کے گولے داغے ہیں۔
یورپی یونین نے اسرائیلی فوج کی صبح سویرے اسکول کومسمار کرنے کی کارروائی پرحیرت کا اظہارکیا ہے۔فلسطینی اتھارٹی کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ اس اسکول میں پانچ جماعتوں کے کمرے تھے اور فی الوقت پینتالیس طلبہ زیرتعلیم تھے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگار نے بتایا کہ عمارت کو منہدم کرنے سے قبل ٹین شیٹس سے بنے ایک ٹریلراور جماعت کے کمروں کے مواد کو صاف کردیا یا ہٹا دیاگیا تھا۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی وزارت دفاع کے سویلین امور کےنگران ادارے کوگیٹ نے مارچ میں مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کی ایک عدالت کے حکم کے بعد اسکول کے احاطے کو خالی کرنے کے لیے دو ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ادارے نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ اسکول ’’غیرقانونی طورپرتعمیر‘‘ کیا گیا تھا اوراس سے ’تحفظ وسلامتی کے لیے خطرہ‘ پیدا ہوگیا تھا۔
فلسطینی وزارت تعلیم کے ایک اہلکاراحمد ناصر نے اے ایف پی کو بتایا کہ 2019 میں اسرائیلی فوج نے اسی جگہ ایک اور اسکول کو منہدم کردیا تھا اوراس اسکول کی جگہ پرنئی عمارت تعمیرکی گئی تھی۔
دریں اثناء یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسماری اور بے دخلیوں کی ان تمام کارروائیوں کوروک دے، جس سے فلسطینی آبادی کے مصائب میں اضافہ ہوگا اور پہلے سے کشیدہ ماحول مزیدتناؤ کاشکار ہوجائے گا۔
فلسطینی علاقوں میں یورپی یونین کے نمائندے کے دفتر نے ایک بیان میں کہا:’’اسکول کی مسماری بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی ہےاور بچوں کے تعلیم کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے‘‘۔







