نئی دہلی : (ایجنسی)
حکمراں جماعت کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملا کر اوربعض اوقات قاعدہ قانون اور ہدایات سے ہٹ کر پولیس افسران کے کام کرنے کے طور طریقوں پر چیف جسٹس آف انڈیا نے سنجیدہ تبصرہ کیا ہے اور انہیں انتباہ کیا ہے ۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ این وی رمن نے ایسے افسران کو ز بردست پھٹکار لگاتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ سرکار بدلنے پر ایسے لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے اور تب وہ راحت کے لیے عدالتوں کی پناہ میں جاتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہجب آپ حکومت کے بہت قریب ہوتے ہیں تو ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب بالکل دوسری طرف ہوتے ہیں اور تب آپ کو بھگتنا پڑتا ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہجب حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہوتے ہیں تو آپ پیسے وصول کرتے ہیں ، سہولتوں کا فائدہ لیتے ہیں اور کئی طرح کے فائدے اٹھاتے ہیں، اس کے بعد جب سرکار بدلتی ہے تو آپ کو سب کچھ سود سمیت چکانا پڑتاہے ۔ جسٹس رمن کی جس بنچ نے یہ باتیں کہیں، ان میں جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی بھی شامل ہیں ۔ چیف جسٹس نے معطل آئی پی ایس افسر گرجندر پال سنگھ کے معاملے میں یہ سخت تبصرہ کیا۔ گرجندر سنگھ پر غداری اور بدعنوانی کے مقدمات ہیں۔ انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے ان کی گرفتاری پر روک لگا رکھی ہے۔ انہوں نے غیر قانونی وصولی کے ایک تیسرے معاملہ میں راحت کی مانگ سپریم کورٹ سے کی ۔
سپریم کورٹ نے پہلے دو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 26 اگست کو کہا تھا کہ پولیس افسران کو ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ قانون کی حکمرانی برقرار رہے۔ جج نے کہا تھا کہ جب تک پولیس افسران سیاسی جماعتوں کو ترجیح دیتے رہیں گے ، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ عدالت نے کہا کہ یہ بہت پریشان کن رجحان ہے۔ ایک طرح سے اس کے لیے محکمہ پولیس کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اگر محکمہ پولیس کے لوگ ذمہ داری سے کام نہیں لیتے اور ایسے سلوک کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرتے تو قانون کی حکمرانی ختم ہو جائے گی۔
چیف جسٹس نے اس رجحان پر چوٹ کرتے ہوئے افسروں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایک وقت میں حکمران جماعت کے ساتھ مل کرغلط کام کریں گے اور عہدے اور پیسے کے لیے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے تو بعد میں انہیں بھگتنا پڑے گا ، جب سرکار بدلے گی اور دوسری جماعت آئے گی تو ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔ سپریم کورٹ نے 2007 میں پولیس سدھار کے لیے مرکزی سرکار کو جو ہدایت دی تھی ، اس میں سیاسی مداخلت کو کرنے کے لیے کئی اقدامات پر عمل درآمد کی بات بھی کی گئی تھی۔ کسی بھی حکومت نے ان سفارشات پر عمل نہیں کیا، کیونکہ کوئی سیاسی جماعت نہیں چاہتی کہ پولیس اور انتظامیہ پر ان کی گرفت کم ہو،کیونکہ وہ خود بھی حکمراں جماعت کی ہاں میں ہاں ملا کر پروموشن اور اچھی پوسٹنگ چاہتے ہیں۔سپریم کورٹ نے سیاستدانوں اور پولیس افسران کے اس گٹھ جوڑ پر ہی چوٹ کی ہے۔










