نئی دہلی ۵؍ جولائی
جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ کے دوسرے دن صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے فلسطین کو لےکر حکومت ہند کی پالیسی اور حکومت اترپردیش کے ذریعہ دینی مدارس کے سلسلے میں تازہ نوٹس پر واضح اورسخت موقف اختیار کیا ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اترپردیش کے چیف سکریٹری نے اپنےتمام ضلع مجسٹریٹس کو ہدایت دی ہے کہ غیر تسلیم شدہ مدارس جن کی تعداد 4204 ہیں، ان میں داخل بچوں کو بنیادی حق تعلیم کے تحت اسکولوں میں داخل کیا جائے ۔ اس سلسلے میں ہم واضح طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مدارس اسلامیہ حق تعلیم قانون سے مستثنی ٰ ہیں اور یہ حق ہمیں آئین نے دیا ہےجس سے دستبردار ہونےکو تیار نہیں ہیں ۔
دوسری طرف یہ بات بھی اہم ہے کہ علماء اپنے اندر موجودہ زمانے کے تقاضوں کو پہچاننے کی قابلیت پیدا کر یں۔ فلسطین کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی یہ سنہری تاریخ ہے کہ اس نے ہمیشہ فلسطین کا ساتھ دیا ہے۔ گاندھی جی نے فلسطینیوں کے لیے عوامی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا تھا ، آج بدقسمتی سے ہمارا ملک اسرائیل کو اسلحہ سپلائی کر رہا ہے جو ملک کی تاریخ و روایت سے غداری ہے ۔اس عمل کو کسی قیمت پر منظور نہیں کیا جانا چاہیے۔
مولانا مدنی نے ماب لنچنگ کو ہندستان کی تاریخ کی بدترین وبا قراردیتے ہوئے کہا کہ کسی مہذب ملک و سماج کے لیے اس سے زیادہ بدبختی کی کوئی بات نہیں ہو سکتی ، اس کے خلاف منظم جد وجہد کے لیے سب سے بنیادی کام یہ ہے کہ ہم گراؤنڈ زیر و پر جائیں ، ہر ضلع میں ایسے لوگ موجود ہوں جو ان واقعات کو مرتب کریں۔
میڈیا کے موجودہ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی طاقت حکمرانوں کے ہاتھوں گروی رکھ دی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ایک فکری تنظیم ہے ، یہ صرف ایجوکیشنل اور سوشل آرگنائزیشن نہیں ہے۔ یہ سوشل ورک اور تعلیم کا بھی کام کرتی ہے لیکن یہ فکری تنظیم ہے۔ اگر ہمیں سوشل ورک، تعلیمی خدمات،اسکول،اسپتال اور کالج بنانے کے لیے اپنے فکر سےسمجھوتہ کرنا پڑے تو ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے ۔
اجلاس سے مولانا ارشد مدنی،جمعیتہ کے نائب صدر مولانا سلمان بجنوری،،نائب امیرالہند مفتی سلمان منصورپوری وغیرہ نے بھی خطاب کیا-اجلاس میں مدارس کے تحفظ،این آرسی،اوقاف،کامن سول کوڈ سے متعلق تجاویز منظور کی گئیں-جمعیتہ کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی نے تمام ہمانا کرام کا شکریہ ادا کیا









