ابراہیم رئیسی کی حادثاتی موت کے بعد قبل از وقت ہونے والے صدارتی انتخابات آج ہوں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دو امیدواروں کی دستبرداری کے بعد مقابلہ اب چار امیدواروں میں ہوگا۔
صدارتی دوڑ سے دو امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں۔ ان میں 53 سالہ امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی اور تہران کے میئر علی رضا زکانی کے نام شامل ہیں
اب صدارت کے لیے سعید جلیلی، محمد باقر، مسعود پزیشکیان اور مصطفیٰ پور محمدی مدمقابل ہیں، حتمی نتائج کا اعلان دو روز میں کیا جائے گا۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ دو بنیاد پرست، سابق جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی اور پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف ایک ہی گروپ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک کارڈیک سرجن مسعود پیزشکیان ہیں جنہوں نے روحانی اور دیگر اصلاح پسندوں جیسے سابق صدر محمد خاتمی اور 2009 کے گرین موومنٹ کے مظاہروں کی قیادت کرنے والوں کے ساتھ خود کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔اگر کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کرسکا تو انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔واضح رہے کہ ابراہیم رئیسی اور دیگر 7 ایرانی عہدیدار گزشتہ ماہ ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے
ایران کے صدارتی انتخابات ایک ایسے وقت میں ہورہے ہیں جبکہ ایک جانب تو غزہ کے مسئلے پر اسرائیل کے ساتھ اسکی کشیدیگیاں بڑھ رہی ہیں، دوسری جانب تہران کے جوہری عزائم کے حوالے سے مغرب کادباؤ ہے اور پھر اندرون ملک سیاسی، سماجی اور اقتصادی امور پر بڑھتی ہوئی مایوسی ہے۔









