ممبئی میں واقع سومیا ودیا وہار اسکول کی انتظامیہ نے منگل (7 مئی) پرنسپل پروین شیخ کو فلسطین کی حامی پوسٹ کو لائک کرنے پر ملازمت سے برطرف کردیا، پروین شیخ نے اسے غلط اور غیر منصفانہ قرار دیا۔
قبل ازیں اسکول انتظامیہ نے پرنسپل سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ جس پر شیخ نے اس الزام کو سیاسی محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قانونی راستہ اختیار کریں گی پروین شیخ نے کہا کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے خط سے قبل سوشل میڈیا سے میری برطرفی کی خبر ملنا حیران کن ہے۔ اس طرح ختم کرنا غیر قانونی اور میری شبیہ کو داغدار کرنا ہے۔
پروین شیخ، جو سومیا ودیا وہار میں 12 سال سے کام کر رہی ہیں، نے کہا کہ پرنسپل کے طور پر، میں نے اسکول کی ترقی میں بہت مدد کی، لیکن اپنے برے وقت میں اسکول کو پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے۔
دوسری طرف انتظامیہ نے کہاکہ اسکول سے وابستہ لوگوں کو ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہیے۔اسکول انتظامیہ نے کہا ہے کہ ہم سومیا ودیا وہار میں پڑھائی کے لیے بہتر ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ایسے میں اسکول سے وابستہ لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور لوگوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔
انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہم اظہار رائے کی آزادی کا احترام کرتے ہیں لیکن ایسے اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سارا معاملہ کیا ہے
24 اپریل کو ایک ہندوتو نواز نیوز پورٹل نے پروین شیخ کے سوشل میڈیا رویے کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے ایک مضمون شائع کیا۔ مضمون میں پروین شیخ کی لائیک پوسٹ کے ذریعے انہیں حماس کی حامی، ہندو مخالف اور عمر خالد کی حامی قرار دیا گیا تھا۔جس کے بعد 26 اپریل کو میٹنگ کے بعد اسکول انتظامیہ نے شیخ پروین سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔









