مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں اور اردن کے شاہ عبداللہ ثانی نے متعدد اخبارات میں شائع ہونے والے ایک مشترکہ اداریے میں لکھا ہے کہ وہ رفح پر اسرائیلی حملے کے خطرناک نتائج کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔
ان رہنماؤں نے کہا کہ وہ رفح پر اسرائیلی حملے کے خطرناک نتائج کے خلاف خبردار کرتے ہیں، جہاں 15 لاکھ سے زائد فلسطینی شہریوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ ”ایسی کوئی بھی جارحیت غزہ پٹی کے عوام کی بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی کے خطرات اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کے خطرے کو بھی بڑھا دے گی اور صرف اور صرف مزید اموات اور مصائب کا باعث ہی بنے گی۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک حالیہ قرارداد میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا اور حماس کے زیر قبضہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کو مزید تاخیر کے بغیر مکمل طورپر نافذ کیا جانا چاہیے۔ ان تینوں رہنماؤں نے غزہ پٹی کے لیے امداد میں بڑے پیمانے پر اضافے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جنگ اور اس کی وجہ سے تباہ کن انسانی مصائب کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
رفح پر حملے کی تاریخ طے کر دی گئی، نیتن یاہو
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا کہ غزہ کے جنوبی شہر رفح پر زمینی فوجی حملے کے لیے تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔ انہوں نے تاہم اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
اس اسرائیلی رہنما نے یروشلم میں کہا، ”ہم اپنے اہداف کے حصول کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں، جن میں اولین اہداف اپنے تمام مغویوں کی رہائی اور حماس پر مکمل فتح حاصل کرنا ہے۔‘‘
ان کے الفاظ میں، ”یہ فتح رفح میں داخلے اور وہاں موجود دہشت گرد بٹالین کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ ایسا ہو گا۔ اس کے لیے ایک تاریخ طے کر دی گئی ہے۔‘‘
اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا، جب مصری دارالحکومت قاہرہ میں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے موضوع پر بات چیت جاری تھی۔









