شئیر مارکیٹ میں لاکھوں کروڑ کے شئیر ہولڈروں کے نقصان اور ایگزٹ پول کے درمیان ساز باز کا دعوی کرتے ہوئے اس کی کرونولوجی سمجھائی اور مطالبہ کیا کہ اس کی جے پی دی سے انکوائری کرائی جائے-دوسری طرف بی جے پی نے اس کو غلط قرار دے کر مسترد کردیا
خبر کے مطابق کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک خصوصی پریس کانفرنس کے اس دوران انھوں نے نریندر مودی اور امت شاہ کے ذریعہ انتخاب سے قبل کئی بار شیئر مارکیٹ خریدنے اور شیئر بازار کے ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی بات پر سوال اٹھائے ہیں۔
راہل گاندھی نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پہلی بار بی جے پی لیڈران نے شیئر بازار کو لے کر انتخاب سے قبل بیان دیا تھا۔ پھر وہ نریندر مودی ہوں یا امت شاہ ہوں… اس بات کو دہراتے رہے کہ شیئر بازار ریکارڈ بنائے گا۔ دوسری طرف نیوز چینل نے غلط ایگزٹ پول جاری کیا، حالانکہ بی جے پی کو پتہ تھا کہ بذات خود اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی۔ باوجود اس کے غلط ایگزٹ پول ریلیز کیا گیا۔ پھر ہوا وہی جس کے سبب 3 جون کو شیئر بازار دوڑتا ہوا نظر آیا، لیکن 4 جون کو وہ تباہ ہو جاتا ہے۔
راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران شیئر بازار کا ایک گراف بھی دکھایا اور کہا کہ یہی وجہ ہے (مودی-شاہ کے بیانات) جو لوگوں نے کروڑوں روپے لگائے ، اور پھر لوگوں کو 30 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ راہل گاندھی نے اسے ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی اس سلسلے میں جے پی سی (جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی) جانچ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
راہل مودی حکومت سے چار اہم سوالات بھی کیے جو اس طرح ہیں:
1. پی ایم مودی نے سرمایہ کاری بڑھانے کا مشورہ کیوں دیا؟
2. پی ایم مودی اور امت شاہ نے لوگوں کو اسٹاک خریدنے کے لیے بار بار کیوں کہا؟
3. دونوں انٹرویو جو کیے گئے وہ اڈانی کے چینل کو کیوں دیے گئے، ان چینل کا کیا کردار ہے؟
4. فرضی ایگزٹ پول اور غیر ملکی سرمایہ دار کا بی جے پی سے کیا رشتہ ہے
دریں اثنابی جے پی لیڈر پیوش گوئل نے کہا کہ مارکیٹ کیپ پہلی بار 400 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ آج ہندوستان کی ایکویٹی مارکیٹ کیپ دنیا کی پانچ بڑی ایکویٹی مارکیٹوں میں سے ایک بن گئی ہے، جس سے خوردہ سرمایہ کاروں کو نقصان نہیں فائدہ ہوا ہے۔









