ہریانہ سے تعلق رکھنے والے دو ہندو نوجوانوں کو اتوار 30 جون کی رات راجستھان کے چورو ضلع میں مبینہ گئو رکشوں نے مویشیوں کی نقل و حمل کے الزام میں مارا پیٹا جب کہ حقیقت میں ان کا پک اپ ٹرک لیموں سے لدا ہوا تھا۔
اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو گئی ہے۔ ویڈیو میں لاٹھیوں سے مسلح ہجوم کو بار بار 29 سالہ سونو بشنوئی اور 35 سالہ سندر بشنوئی کو زمین پر لیٹتے ہوئے مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ہجوم نے ان کے چہروں پر چپلوں سے مارا ، ان کے سروں پر لاتیں ماریں اور ڈنڈوں سے پٹائی کی گئی وہ نیم مردہ ہوگئے
جے پور سے بھٹنڈہ تک لیموں لے جانے والے ان کے پک اپ ٹرک کو قومی شاہراہ پر لسیڈی ٹول پلازہ کے قریب گاؤ رکشکوں کے ایک ہجوم نے روک لیا جو ایک جیپ اور موٹر سائیکل پر آئے تھے۔ حملہ آوروں نے گائے کی نقل و حمل کا الزام لگاتے ہوئے دونوں ہندو نوجوانوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔
دونوں شدید زخمیوں کو پولیس نے ہسپتال پہنچایا ۔ پولیس نے قتل کی کوشش کے الزام میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ اس کیس کے سلسلے میں منگل 2 جولائی تک پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
لوک سبھا کے انتخابات کے نتائج کے بعد ملک میں نام نہاد گئو رکشکوں کے ذریعہ لینچنگ کے واقعات کی تعداد مجموعی طور پر بہت زیادہ ہوگئی ہےمظالم کا نشانہ اکثر مسلم کمیونٹی کے افراد کو بنایا جاتا ہے۔
اس سے پہلے کے دو واقعات میں، 16 جون کو، ہریانہ میں ایک گوشت کی دکان پر مبینہ گئو رکشکوں نے چھاپہ مار کر مسلمان دکان کے مالک اور دو ہندو مردوں کو زخمی کر دیا تھا جو وہاں چکن خریدنے آئے تھے۔
15 جون کو بندوقوں سے لیس لوگوں نے مبینہ طور پر مویشیوں کے ذبیحہ پر ہریانہ کے میواتی ولیج پر حملہ کیا اور دو مسلمان مردوں کو بری طرح زخمی کردیا ۔









