رائے پور : (ایجنسی)
بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے رہنما راکیش ٹکیت منگل کو چھتیس گڑھ آئے ، جہاں انہوں نے دارالحکومت رائے پور میں صحافیوں سے بات چیت کی اور زرعی قوانین سے متعلق سوالات کے جواب دیئے۔ اس کے ساتھ حکومت کے اگلے قدم کے بارے میں بھی خبردار کیا۔ کسان رہنما ٹکیت نے کہا کہ جو حکومت ہے (دہلی میں بی جے پی کی ) اس نے آدھا ملک بیچ دیا ہے۔ اس نے مدھیہ پردیش کی منڈیاں بیچ دیں۔ اب چھتیس گڑھ کا مسئلہ بھی سامنے آئے گا۔ بڑا مسئلہ ایم ایس پی کا ہے جو پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ ہم سب کو اپنی آواز بلند کرنی ہے۔
رائے پور میں کسان رہنما راکیش ٹکیت نے میڈیا ہاؤس کے بارے میں بھی بیان دیا۔ ٹکیت نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں ،سب لوگ ساتھ دو۔ ان کا اگلا ٹارگیٹ میڈیا ہاؤس ہیں۔ اگرآپ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ساتھ دیں نہیں تو آپ بھی گئے ۔
صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں چھتیس گڑھ حکومت کاذکر کئے جانے پر راکیش ٹکیت نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں کانگریس کی حکومت ہے تو رہنے دو…. اگر یہ کسانوں کے لیے نہیں کرے گی تو انہیں بھی مشکل ہوگی ۔ سرکار تو سرکار ہے ۔ ہم ان کا بھی کچھ نہ کچھ حل ڈھونڈیں گے ۔ ٹکیت نے کہاکہ اصل تو اس دہلی والی کو دیکھ لو جس نے قانون بنا کر آدھا ملک بیچ دیا۔ مدھیہ پردیش کی 182 منڈیاں بیچنے دیں۔
اس کے ساتھ ہی بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کسان تنظیموں کے’بھارت بند‘ کے بارے میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہمارا ’بھارت بند‘ کامیاب رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسانوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ٹکیت نے کہا کہ ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو مذاکرات کرنے چاہئیں،ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں ، لیکن کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔










