اردو
हिन्दी
جولائی 18, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

رام نومی اور سبزی خوری: پردے کے پیچھے کیا ہے؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
رام نومی اور سبزی خوری: پردے کے پیچھے کیا ہے؟
89
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ڈاکٹر سلیم خان

رام نومی اور سبزی خوری کاجن دہلی کے بلدیہ سے نکل کر جے این یو کے کیمپس میں داخل ہوگیا ۔ وہاں رام نومی کی پوجا پاٹ اور کاویری میس کے اندر نان ویج کو لے کر ہنگامہ اتنا بڑھا کہ نوبت پولس اسٹیشن میں ایف آئی آر سے لے کر اسپتال میں زخمیوں تک پہنچ گئی۔ اس میں ان بھولے بھالے شکست خوردہ دانشوروں کے لیے عبرت کا سامان ہے جو مسلم قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر نے بابری مسجد کی بازیابی کے لیے اصرار نہیں کیا گیا ہوتا تو ملک کی فرقہ وارانہ فضا خراب نہیں ہوتی ۔اس لیے گویا موجودہ نفرت کے ماحول کی ذمہ داری خود ملت پر ہے۔ رام نومی کایہ تنازع اس خوش فہمی کو دور کردیتا ہے۔ اس بار بابری مسجد یا رام مندرنہیں ہے۔ بابر اوراس سے صدیوں بعد انتقام لینے کی خاطر میدان میں آنے والا بجرنگ دل بھی غائب ہے لیکن تنازع ہے ۔ دنگا فساد اور نفرت انگیزی اپنے شباب پر ہے کیونکہ اس کی سیاسی ضرورت موجود ہے۔ جن لوگوں کو انتخاب جیتنے کے لیے فرقہ واریت درکار ہے وہ اس کو فروغ دے کرکسی نہ کسی بہانے سے فتنہ فساد برپا کرتےرہتےہیں اور کرتے رہیں گے ۔

بقول غالب ؎

ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی

ان لوگوں کو جوسوچتے ہیں کہ اگر بابری مسجد کی تحریک نہ چلتی تو آج بھی ملک میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے، یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا صرف محاورے کی حد تک ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے میمنے اور شیر کی کہانی میں درسِ عبرت ہے۔ ایک نہر پروہ دونوں کافی فاصلے پر پانی پی رہے تھے۔ حسب توقع جنگل کا راجہ بلندی پر اورپرجا پستی میں تھی۔ شیر کو بھوک کا احساس ہوا تو میمنے پر نیت خراب ہوگئی۔ میمنے کا شکار کرنے کے لیےشیر نے جواز تلاش کیا حالانکہ آج کل کے سیاستداں بلا جواز بلڈوزر چلا دیتے ہیں۔ شیر نے کہا کہ تم میرے پینے کا پانی کیوں گدلہ کررہے ہو؟ غریب میمنہ بولا حضور پانی تو آپ کی جانب سے میری طرف آرہا ہے اس لیے میں اسے کیونکر گدلہ کرسکتا ہوں ۔ اس جواب پر جھینپ کر شیر نے کہا سنا ہے تم نے مجھے پچھلے سال گالی دی تھی۔ میمنہ بولا میں تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوا تھا ۔ لاجواب ہوجانے کے باوجودشیر کٹ حجتی کرتے ہوئے بولا تم نے نہیں تو تمہاری ماں نے گالی دی ہوگی۔ میمنہ خطرہ سمجھ گیا اور اپنی جان بچانے کی خاطر گویا ہوا جناب آپ اور وہ تو ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے ۔ لہٰذہ وہ ایسی گستاخی کیسے کرتی ۔ شیر نے زچ ہوکر کہا دیکھو جب مجھے بھوک لگتی ہے تو میں دوست و دشمن کی تفریق نہیں کرتا اور پھر میمنے کو چٹ کرگیا۔

شیر جنگل میں ہو یا شہر میں اس کی خصلت نہیں بدلتی ہاں شکار بدل جاتا ہے۔ دہلی کی مشہور و معروف جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ضرورت پرانی مگر شکار نیا یعنی مسلمان نہیں بلکہ بائیں بازو کے طلباء ہیں ۔ اس لیے کہ وہاں اپنی سیاسی بھوک مٹانے کی خاطر مسلمانوں کی وافر مقدار موجود نہیں ہے۔ جے این یو میں رام نومی اور سبزی خوری کے مسئلہ پر ہنگامہ برپا کردیا گیا ۔ بائیں بازو کی یونین کا الزام ہے کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے طلباء نے انہیں نان ویج کھانا کھانے سے روکنے کی خاطر کاویری ہاسٹل کے میس سکریٹری کے ساتھ مار پیٹ کی۔ یہ بات جگ ظاہر ہے کہ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین پر فی الحال لیفٹ ونگ کا غلبہ ہے اوراے بی وی پی برسوں سے وہاں قدم جمانے کی ناکام کوشش کررہی ہے ۔

یونین نے کیمپس میں غنڈہ گردی کا الزام لگاتے ہوئے طلبہ سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے لیکن کیا اس طرح کے ہنگاموں سے اے بی وی پی کو اپنے مقصد میں یعنی اثرو رسوخ بڑھانے میں کامیابی ملے گی؟ ظاہر ہے دنیا کی کسی بھی درسگاہ میں داداگیری سے کوئی تنظیم کامیاب نہیں ہوسکتی لیکن اے بی وی پی کو اس کے سوا کوئی اور طریقہ معلوم ہی نہیں ہے اور امیت شاہ کی پولس کے آشیرواد نے اسے شتر بے مہار بنادیا ہے ۔ الٹا چور کوتوال کو ڈ انٹے کی مانند اے بی وی پی نے بھی الزام لگادیا کہ بائیں بازو کے طلباء کوکاویری ہاسٹل میں رام نومی پوجا سے روکا گیا اور ہڈیوں کے بکھیر دینے کی دھمکی دی گئی ۔ اس طرح گویا یونیورسٹی کے اندرگوشت خوری کے مقابلے رام نومی کی سیاست کا آغاز ہوگیا ۔

اس کشمکش کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بائیں بازو کی طلباء تنظیمیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں ،انہیں رام نومی کی پوجا پاٹ پر کوئی اعتراض نہیں ہے وہ تو اپنی پسند کی غذا پررکاوٹ کے مخالف ہیں ۔ اس کے برعکس اے بی وی پی والوں کا کہنا ہے کہ انہیں نان ویج سے کوئی پریشانی نہیں ہے بلکہ وہ تو رام نومی منانے سے روکے جا نے کے خلاف ہیں ۔دونوں فریقوں کا دعویٰ اگر درست ہے تو تصادم نہیں بلکہ مفاہمت ہونی چاہیے یعنی لیفٹ ونگ کے طلباء کو رام نومی کے جشن میں شریک ہونا چاہیے اور اے بی وی پی والوں کو ان کے ساتھ گوشت کھانا چاہیے لیکن اس کے برعکس لڑائی ہوگئی توآخر ایسا کیوں ہوا؟ اس کی حقیقت یہ ہے کہ رام نومی کی شام اے بی وی پی نے رام نومی کی پوجا کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ نان ویج کی مخالفت بھی کی ۔ مرغی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالی گئی ۔باورچیوں پر نہ صرف دباو ڈالا گیا بلکہ مار پیٹ بھی کی گئی ۔ آخرمیں کھانے والے نشانہ بنے ۔ یہ زعفرانیوں کا چال، چرتر اور( دوغلا) چہرا ہے ۔

اس معاملے میں دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے واضح کردیا کہ جے این یو کیمپس کی میس میں بلا تفریق مذہب و ملت کسی کے کھانے پینے پر کوئی پابندی یا ممانعت نہیں ہے۔ رمضان ہو یا رام نومی ہر کوئی اسے اپنے طریقے سے منا سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ وضاحت بھی کی گئی کہ کسی کے لباس، کھانے اور عقیدے پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ تمام لوگ اپنے اپنے طریقے کے مطابق مذہب کی پیروی کرسکتے ہیں ۔مذکورہ تنازع سے اپنا پلہّ جھاڑتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ بھی کہہ دیا کہ میس کا انتظام و انصرام اسٹوڈنٹ کمیٹی کے ذریعہ ہوتا ہے اور مینو وہی طے کرتی ہے۔ وارڈن نے نوٹس جاری کرکے واضح کیا کہ ہر شخص اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرسکتا ہے، اپنے مذہب پر عمل کرسکتا ہے، یونیورسٹی کی جانب سے کوئی ممانعت نہیں ہے۔

رام نومی کے دن مذکورہ یقین دہانیاں زمینی سطح پر بے اثر ہوگئیں کیونکہ جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے مطابق اے بی وی پی کے غنڈوں نے نفرت اور تقسیم کے ایجنڈے کی سیاست کے سبب کاویری ہاسٹل میں پرتشدد ماحول پیدا کر دیا۔ وہ میس کمیٹی کو کھانے کا مینو تبدیل کرنے پر مجبور کر نے لگے اور میس سے وابستہ افراد کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کے طلباء پر حملہ کر دیا ۔جے این یو کے مینو میں گوکہ نان ویج اور ویج دونوں قسم کے کھانے ہیں اور طلباء کو اپنی پسند کا کھانا لینے کی چھوٹ ہے لیکن اے بی وی پی کے کارکنوں نے غنڈہ گردی کر کے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ نان ویج کی مخالفت کرنے والے احمق اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ جے این یو اور اس کے ہاسٹل میں رہنے والے طلباء کا تعلق نہ صرف مختلف علاقوں بلکہ ملکوں سے ہے۔ ان سب کی تہذیب اور ناو نوش کے اختلاف کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ ویسے طلبہ یونین تفرقہ انگیزی کا مقابلہ کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

پچھلے چند ماہ میں دوسری مرتبہ اے بی وی پی نے یہ حرکت کی ہے۔گزشتہ سال ماہِ نومبر کی 15 ؍تاریخ کو بھی لیفٹ تنظیموں آل انڈیا اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن و اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کے ساتھ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے اراکین کی پُرتشدد جھڑپ ہوچکی ہے۔اس میں 12 سے زیادہ طلبا زخمی ہوگئے تھے۔ زخمی طلبا میں سے تین کوایمس میں داخل کرنا پڑا تھا۔ اس ہاتھا پائی کے لیے دونوں فریقوں نےایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ڈی سی پی ساوتھ ویسٹ گورو شرما نے طلبہ یونین ہال میں میٹنگ منعقد کرنے کو لے کر طلبا کے دو گروہوں میں جھگڑے کا تو انکار کرنے کے باوجود سخت نوک جھونک کو تسلیم کیا تھا۔ یہی حقیقت ہوتی تو تین لوگوں کو نازک حالت میں ایمس کے اندر داخل کرانے کی نوبت کیوں آتی؟

ماضی کا تصادم میٹنگ میں رخنہ اندازی کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ مارپیٹ کا تھا مگر اب اس میں رام نومی کا مذہبی تڑکا لگا یا جارہا ہے۔ اے بی وی پی کوممکن ہے اس سے کیمپس انتخاب میں تھوڑا بہت فائدہ ہوجائےایسا کرنے سے جے این یو کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا ۔ اس میں نہ صرف غیر ملکی طلباءکی آمد رک جائے گی بلکہ ہندوستان بھر سے والدین بھی اپنے بچوں کو یوکرین تو بھیج دیں گے لیکن جے این یو نہیں روانہ کرنے سے ہچکچائیں گے۔ مرکزی حکومت ممکن ہے یہی چاہتی ہو لیکن کیا ایسا کرنے سے ملک اور اس کے باشندوں کا کوئی بھلا ہوگا ؟ اس سوال کا جواب راشٹر بھکتی کا دعویٰ کرنے والی برسرِ اقتدار جماعت کو دینا ہوگا اور یہ بتانا ہوگا کہ اقتدار کی خاطر وہ کس حد تک گریں گےنیز ملک و قوم کو کتنا نقصان پہنچائیں گے؟

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی
خبریں

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

10 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN