نئی دہلی :(ایجنسی)
صحافی رعنا ایوب کو منگل کی شام انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے جاری کردہ لک آؤٹ سرکلر کی بنیاد پر لندن جانے سے روک دیا گیا۔ بتادیں کہ ای ڈی مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں ان سے تفتیش کر رہی ہے۔ رعنا ایوب منگل کی شام ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لندن جانے والی تھی۔ اب رعنا ایوب کو یکم اپریل کو دہلی میں پیش ہونے کے لیے منگل کو نیا سمن جاری کیا گیا ہے۔
لندن کی فلائٹ میں سوار ہونے سے روکے جانے پر رعنا ایوب نے ٹویٹ کیا، ‘جب میں انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس کے ایک پروگرام میں صحافیوں کو ڈرانے پر اپنی تقریر کرنے کے لیے لندن جانے والی فلائٹ میں سوار ہونے والی تھی تو مجھے حکام نے روک دیا۔ اسی وقت مجھے جرنلزم فیسٹیول میں ہندوستانی جمہوریت پر تقریر کرنے کے فوراً بعد اٹلی روانہ ہونا تھا۔
ای ڈی کے ذرائع نے بتایا کہ ایوب کو دو بار طلب کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے صرف ایک سمن کا جواب دیا جس کے بعد ان کے خلاف لک آؤٹ سرکلر جاری کیا گیا۔ رعنا ایوب کو یکم اپریل کو دہلی میں پیش ہونے کے لیے منگل کو نیا سمن جاری کیا گیا ہے۔ دی انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے ایوب نے کہا، ’مجھے پہلا سمن گزشتہ سال ستمبر یا اکتوبر میں موصول ہوا تھا، جب ممبئی ای ڈی غیر ملکی کرنسی کی خلاف ورزی کے معاملے کی تحقیقات کر رہی تھی۔
ایوب کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اس معاملے میں نہ صرف ان سے ملاقات کی بلکہ تمام ضروری دستاویزات بھی فراہم کیں۔ پھر مجھے جنوری میں سمن ملا لیکن اس وقت میں کورونا کی زد میں تھی، اس لیے میں نے مزید وقت مانگا تھا۔ ایوب کے مطابق ای ڈی کی جانب سے تازہ سمن موصول ہوئے جب انہیں ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا۔ پھر مجھے بتایا کہ اسے گھر واپس جانا پڑے گا۔
رعنا ایوب نے کہا کہ وہ ایوارڈ وصول کرنے والی ہیں اور دی گارجین اخبار کے نیوز روم سے خطاب بھی کرنے والی ہیں۔ ایوب نے بتایا کہ میں ای ڈی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں اور میرا پورا پلان پبلک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت دہلی ای ڈی جو دستاویزات مانگ رہی ہے، وہ میں نے پہلے ہی ممبئی ای ڈی کو پیش کر دی ہے۔ لیکن ہر بار وہ مجھ سے کاغذات کے بارے میں پوچھتے ہیں۔
ایوب کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کئی بار ممبئی ای ڈی کو لکھ چکی ہیں، لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ واضح رہے کہ اس سال فروری میں ای ڈی نے اس کیس کے سلسلے میں ایوب کی 1.77 کروڑ روپے کی رقم ضبط کی تھی۔ ای ڈی کا مقدمہ یوپی پولیس کی طرف سے گزشتہ سال درج کی گئی ایف آئی آر پر مبنی ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایوب نے کووڈ ریلیف ورک کے نام پر ’کیٹو‘ پلیٹ فارم کے ذریعے رقم اکٹھی کی، لیکن ان پیسوں کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا۔
ای ڈی کے مطابق امدادی کاموں کے لیے رقم کا استعمال کرنے کے بجائے ایوب نے ایک الگ کرنٹ بینک اکاؤنٹ کھول کر کچھ رقم جمع کرائی۔ چیریٹی سے جمع کی گئی رقم سے 50 لاکھ روپے کے فکسڈ ڈپازٹ (FDs) بھی بنائے اور بعد میں انہیں امدادی کاموں کے لیے استعمال نہیں کیا۔ ایوب پر ای ڈی کا الزام تھا کہ انہوں نے اپنی بہن اور والد کے کھاتوں میں اکھٹا کی گئی رقم بھی جمع کرائی تھی۔
اس معاملے میں، ای ڈی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ایوب نے راحت کے کاموں پر اخراجات کا دعوی کرنے کے لیے فرضی بل تیار کیے تھے۔ اس کے ساتھ انہوں نے جمع شدہ رقم کو ذاتی اخراجات کے لیے بھی استعمال کیا۔ تاہم رعنا ایوب نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات ’’بے بنیاد اور مکمل طور پر بدنیتی پر مبنی‘‘ ہیں۔










