نئی دہلی: جی ہاں دو مسلم خواتین حکمرانوں – دلی سلطنت کی رضیہ سلطان اور مغلیہ دور کی نور جہاں – کے نام کو نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی 8 ویں جماعت کی نئی سوشل سائنس کی کتاب سے پوری طرح سے ہٹا دیا گیا ۔پرانی کتاب میں 1236 سے 1240 تک حکومت کرنے والی رضیہ کو ان کے بھائیوں سے زیادہ اہل بتایا گیا تھا اور ان کے سکوں اور نوشتہ جات کا ذکر کیا گیا تھا، جن میں انہوں نے خود کو سلطان التمش کی بیٹی بتایا تھا۔اسی طرح پرانی کتاب میں جہانگیر کی بیوی نور جہاں کو ایک بااثر حکمران بتایا گیا ہے جن کے نام کے فرمان جاری ہوتے تھے۔پرانی درسی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ نور جہاں کے نام پر مہریں جاری کی جاتی تھیں، جن میں ایسے پیغامات تھے جو انہیں جہانگیر کی برابری کا درجہ دیتے تھے لیکن نئی کتاب میں ان دونوں خواتین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔نئے کردار: رانی درگاوتی، تارابائی اور بیگم حضرت محل وہیں، کچھ نئے خواتین کرداروں کو جگہ دی گئی ہے۔ مثلاًرانی درگاوتی ، جنہیں اکبر کے خلاف بہادری سے لڑنے والی حکمران کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مراٹھوں پر مبنی باب میں تارابائی کو ایک ‘نڈر جنگجو رانی’ کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 1857 کی بغاوت میں شامل رہیں بیگم حضرت محل کو ایک ‘بہادر خاتون’ کہا گیا ہے
۔این سی ای آر ٹی میں سوشل سائنس کا نصاب تیار کرنے والےگروپ کے سربراہ مشیل ڈینینو نے دی ہندو The hindu کو بتایا کہ زیادہ خواتین کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن ‘نصاب کو کم کرنے کی ہدایت’ اور ‘جگہ کی حد’ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا یہ بات پہلے بتائی جاچکی ہے۔ کہ مغل حکمرانوں کو’جابر’ بتایا گیادلی سلطنت اور مغل حکمرانوں کے بارے میں اب پہلی بار8 ویں جماعت میں پڑھایا جائے گا۔










