کئی طرح کے مقدمات میں پھنسے ،انکم ٹیکس اور ای ڈی کا سامنا کر رہے سماج وادی پارٹی کے قدآور لیڈر اورسابق وزیر محمد اعظم خان، ان کی اہلیہ تنزین فاطمہ اوربیٹےعبداللہ اعظم کے لئے کافی دنوں بعد ایک اچھی خبر آئی ہے
میڈیا رپورٹ کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک معاملہ میں ان کو فوری فوری راحت دی ہے۔ یہ معاملہ ان کے بیٹےعبداللہ اعظم کے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ سے متعلق ہے۔ ہائی کورٹ نے جعلی تاریخ پیدائش کیس میں جاری فوجداری معاملے میں اعظم خان فیملی کوجزوی راحت دی ہے۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہ کوبلانے کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ منصفانہ ٹرائل ملزم کا بنیادی حق ہے۔ اس سے انکار کرنا ملزم اورمتاثرہ دونوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حالانکہ عدالت نے اعظم خان کے کئی مطالبات ماننے سے انکارکردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ خصوصی عدالت درخواست گزارکی درخواست کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پرکرے۔ اعظم خان کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس راجبیرسنگھ کی سنگل بنچ نے یہ حکم دیا ہے۔
اعظم خان نے داخل کی تھی درخواست
دراصل سماجوادی پارٹی کے لیڈراعظم خان اورعبداللہ اعظم کی جانب سے عدالت میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس عرضی میں دفاعی پارٹی پرالزام لگایا گیا ہے کہ اسپیشل کورٹ ایم پی/ایم ایل اے رام پورمیں عبداللہ اعظم کی جعلی تاریخ پیدائش کے سلسلے میں جاری کیس میں مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ کہا گیا کہ خصوصی عدالت میں چل رہے مقدمے میں دفاع کو مناسب موقع نہیں دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس مقدمے کی سماعت منصفانہ طریقے سے نہیں ہو رہی ہے۔ درخواست گزارکی جانب سے ٹرائل کورٹ کے سامنے متعدد درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، لیکن ان سب کو مسترد کر دیا گیا ہے اور دفاع کو قانون کے مطابق اپنا مقدمہ پیش کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے۔








