نئی دہلی (آرکے بیورو)معروف مصنف ،دانشور اردو اکادمی دہلی کے وائس چیئرمین رہے پروفیسر الطاف اعظمی کا آج طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا معروف سوشل ورکر ابو طلحہ نے روزنامہ خبریں کو بتایا کہ انہوں نے دہلی کے اپولو اسپتال میں آخری سانس لی -ان کی تدفین رات آٹھ بجے قبرستان بٹلہ ہاؤس اوکھلہ میں ہوگی ۔
ان کی پیدائش 2جولائی کو بھاٹن پور اعظم گڑھ میں ہوئی ابتدائی تعلیم مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ سے حاصل کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن،بی یو ایم ایس اور جامعہ ہمدرد سے پی ایچ ڈی کی -آپ نے ۔ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیمی خدمات انجام دیں کچھ عرصہ تک اردو اکادمی کے وائس چیئرمین بھی رہے ۔
آپ کی تفسیر میزان القرآن تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ شبلی، فراہی، سرسید اور اقبال کے حوالے سے آپ کی تصانیف قابل قدر ہیں۔ ایک کتاب میں آپ نے ملی جماعتوں کا تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے انہوں نے تقریبا چالیس کتابیں تصنیف،تالیف اور ترتیب کی ہیں اور کئی کتابوں کا ترجمہ کیا ہے
ان کے انتقال پر مختلف حلقوں نے رنج و غم کا اظہار کیا -ان کے انتقال سے بلا شبہ علمی و تحقیقی میدان میں خلا پیدا ہوا ہے ،قحط الجال کے اس دور میں اس کا پر ہونا مشکل ہے








