عالمی عدالت انصاف میں دی ہیگ میں اسرائیل کیخلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کے مقدمے کی دوسرے دن بھی سماعت ہوئی۔
اس موقع پر اسرائیل کی جانب سے وکلا نے مضحکہ خیز منطق استعمال کرتے ہوئے دلائل میں غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار حماس کو قرار دیا۔
انکا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنا حق دفاع استعمال کیا، حماس اسپتالوں اور دیگر شہری مقامات کو استعمال کر رہا ہے۔
جنگی جرائم کے مرتکب اسرائیل کے وکلا کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں عالمی قوانین کے مطابق ہیں، نسل کشی نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ مکمل کہانی نہیں سنا رہا۔ اسرائیل حماس کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔اسرائیل نے جنوبی افریقہ کی درخواست رد کرنے کے مطالبے کے ساتھ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھائے۔
قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تقریبا چوبیس ہزار ہلاکتوں کے تناظر میں جنوبی افریقہ نے فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے پر بین الاقوامی عدالت سے اسرائیل کے خلاف رجوع کر رکھا ہے۔ جمعہ کے روز جنوبی افریقہ کی درخواست پر سماعت کا دوسرا مرحلہ تھا جس پر اسرائیل نے جنوبی افریقہ کے طرف سے نسل کشی کے الزامات کا جواب دینا تھا اسرائیل کی وزارت خارجہ کے قانونی مشیر ٹال بیکر نے آئی سی جے کو سماعت کے دوسرے روز کہا ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی طرف سے یہ درخواست دسمبر کے آخری ہفتے میں دی گئی تھی۔ جس میں اسرائیل کے خلاف مطالبہ کیا گیا تھا کہ فوری اقدام کرتے ہوئے اسرائیل کو حکم دیا جائے کہ وہ غزہ میں جاری جارحانہ اقدامات ختم کرے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے درخواست کا جائزہ لینے کے بعد 11 اور 12 جنوری کو اس پر سماعت کا فیصلہ کیا تھا۔ پہلے روز جمعرات کو جنوبی افریقہ نے اپنے دلائل پیش کیے اور درخواست میں پیش کیے گئے مؤقف کو دہرایا ۔ جبکہ اسرائیل نے جنوبی افریقہ کے ان الزامات کا جمعہ کے روز جواب دیا ہے۔اسرائیلی مشیر بیکر نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ حماس اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خلاف اسرائیل کارروائیاں اپنے حق دفاع کے طور پر کر رہا ہے۔ جبکہ جنوبی افریقہ کا مؤقف بالکل بے بنیاد ہے۔ جنوبی افریقہ واقعات کو مسخ کر کے پیش کر رہاہے









