لکھنؤ:(ایجنسی)
اترپردیش ضلع بلرام پورکے سابق رکن پارلیمنٹ اور قدآور مسلم لیڈر رضوان ظہیر کی 17 سال بعد دوبارہ سماجوادی پارٹی میں واپسی ہوئی ہے۔ رضوان ظہیر کے سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے سے ضلع کی سیاست میں نئی تبدیلی آئی ہے اور بڑی ہلچل بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سال 1989 میں آزاد رکن اسمبلی منتخب ہوکر سیاسی کیریئرکا آغاز کرنے والے رضوان ظہیر 2021 تک تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں کا سفر طے کرتے ہوئے اب پھر سماجوادی پارٹی میں واپسی کرچکے ہیں۔ سماجوادی پارٹی میں رضوان ظہیر کی واپسی سے جہاں پارٹی کو مضبوطی ملے گی وہیں دوسری طرف ان کی بیٹی اور تلسی پور اسمبلی حلقہ سے قسمت آزما چکیں زیبا رضوان کے مستقبل کے لئے بھی بڑا فیصلہ ہوسکتا ہے۔
رضوان ظہیر کا کیریئر تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے۔ وہ تین بار رکن اسمبلی اور 2 مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ ایک وقت تھا، جب رضوان ظہیر کا شمار پروانچل کے قد آور لیڈروں میں ہوتا تھا۔ اپنے گلیمرس شبیہ کو لے کر رضوان ظہیر عام لوگوں میں کافی مقبول ہوا کرتے تھے، لیکن انہوں نے وقت کے ساتھ پارٹی بدلنے میں نہ صرف اپنی سیاسی اثرورسوخ کم کردی بلکہ اپنے قریبیوں سے بھی دور ہوتے گئے۔ سال 1989 میں تلسی پور اسمبلی حلقہ سے رضوان ظہیر آزاد رکن اسمبلی کے طور پر قسمت آزمائی کی اور رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے بعد رضوان ظہیر بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہوئے۔ رضوان ظہیر دو بار بی ایس پی سے رکن اسمبلی رہے۔ 1996 میں انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر بلرام پور لوک سبھا سیٹ سے قسمت آزمائی کی، لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سال 1998 میں رضوان ظہیر سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر بلرام پور لوک سبھا سیٹ سے قسمت آزمائی کی اور رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ سال 1999 میں دوبارہ سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب رضوان ظہیر پروانچل کی سیاست میں ایک بڑا نام ہوا کرتا تھا۔ سال 2004 کے لوک سبھا الیکشن میں سماجوادی پارٹی سے اختلاف کے بعد رضوان ظہیر نے ایک بار پھر پارٹی تبدیل کرلی اور ہاتھی پر سوار ہوگئے، لیکن یہ انہیں راس نہیں آیا اور وہ مسلسل دو لوک سبھا انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہے۔










