نئی دہلی: (ایجنسی)
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے اثرات صرف دونوں ممالک کی سرحدوں تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ پوری دنیا کو اس جنگ کے معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ روس بہت سے غذائی اجناس، خام تیل، صنعتی دھاتوں کا بڑا برآمد کنندہ ہے اور اس جنگ کی وجہ سے ان کی سپلائی خطرے میں پڑ گئی ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر ان کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔
چین اور بھارت کے بعد روس گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک
روس اور یوکرین کی گندم کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں اور خدشہ ہے کہ آنے والے وقت میں گندم کی سپلائی بھی متاثر ہوگی۔ چین اور بھارت کے بعد روس گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور گندم کی برآمد کے لحاظ سے وہ سرفہرست ہے۔ یوکرین گندم برآمد کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔
بھارت سمیت دنیا بھر میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ
بھارت میں سال 21-22 کے دوران حکومت نے گندم کی ریکارڈ پیداوار کا تخمینہ جاری کیا ہے، لیکن عالمی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی قیمت کو دیکھتے ہوئے بڑی مقدار میں گندم برآمد کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں بھی اس کی قیمت بڑھ گئی ہے۔
مدھیہ پردیش کے اندور میں جمعرات کو گیہوں 2400 روپے فی کوئنٹل کے حساب سے فروخت ہو رہا تھا۔ لیکن جمعہ کو اس کی قیمت تیزی سے بڑھ کر 2,400-2,500 روپے فی کوئنٹل ہوگئی۔ کچھ عرصہ پہلے تک مقامی بازار میں گیہوں 2000 روپے فی کوئنٹل کے حساب سے فروخت ہو رہا تھا۔
گندم ایم ایس پی کے اوپر فروخت ہور ہی ہے
سال 22-23 کے لیے گندم کی کم از کم امدادی قیمت 2,015 روپے فی کوئنٹل مقرر کی گئی ہے اور کسان عام طور پر اس شرح پر گیہوں فروخت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اب مارکیٹ میں ایم ایس پی سے زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ تاجروں نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ ایم ایس پی سے زیادہ گندم کی قیمت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کو اس بار کسانوں سے کم مقدار میں گیہوں مل پائےگا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ سے منڈی میں گندم کی آمد میں بھی کمی آئے گی کیونکہ خریدار اسے براہ راست کسان سے خریدلیں گے۔
روس-یوکرین جنگ کے دوران گندم کی سپلائی خطرے میں
اے پی ای ڈی اے کے مطابق، ہندوستان بنیادی طور پر نیپال، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات، سری لنکا اور یمن کو گندم برآمد کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے باعث گندم کی عالمی سپلائی خطرے میں پڑ گئی ہے اور اسی وجہ سے اب اپیڈا دیگر ممالک کو بھی گندم برآمد کرنے کے لیے متعلقہ ممالک اور برآمد کنندگان سے بات چیت کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر گندم کی قیمتیں دس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔










