نئی دہلی: تمل ناڈو کے وزیر اور وزیر اعلی ایم کے اسٹالن کے بیٹے ادھیاندھی اسٹالن نے سناتن دھرم پر متنازعہ بیان دے کر سیاسی ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق ادھیانیدھی اسٹالن نے ہفتے کے روز کہا کہ سناتن دھرم سماجی انصاف کے خیال کے خلاف ہے اور اسے "ختم” کیا جانا چاہیے۔ نیز، ادھیانیدھی نے سناتن دھرم کا موازنہ ڈینگو اور ملیریا جیسی بیماریوں سے کیا، جس کی بی جے پی لیڈروں نے سخت تنقید کی۔ بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے اس بیان پر اپوزیشن اتحاد کو گھیر لیا ہے۔ادھیاندھی کے اس بیان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ادھیانیدھی نے کہا کہ سناتن دھرم ملیریا اور ڈینگو کی طرح ہے اس لیے اسے ختم کرنا چاہیے ادھیاندھی کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔ کئی لوگوں نے تمل ناڈو کے وزیر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا
دیاندھی اسٹالن کی صفائی۔
ادھیاندھی کا یہ تبصرہ چنئی میں مصنفین کی کانفرنس میں آیا، جہاں انہوں نے کہا کہ سناتن دھرم کی صرف مخالفت نہیں کی جا سکتی، بلکہ اسے تباہ ہونا چاہیے۔ تمل ناڈو کے وزیر نے دلیل دی کہ یہ خیال فطری طور پر رجعت پسند ہے، لوگوں کو ذات اور جنس کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے، اور بنیادی طور پر مساوات اور سماجی انصاف کی مخالفت کرتا ہے۔ بیان پر ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے ادھیانیدھی نے اپنی وضاحت دی ہے۔ امیت مالویہ کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لکھا، "میں نے سناتن دھرم کی پیروی کرنے والے لوگوں کی نسل کشی کے لیے کبھی نہیں کہا۔ سناتن دھرم ایک اصول ہے، جو لوگوں کو ذات پات اور مذہب کے نام پر تقسیم کرتا ہے۔ سناتن دھرم کو جڑ سے اکھاڑنا انسانیت اور انسانی مساوات کو برقرار رکھنا ہے۔ میں نے جوکہا اپنے ہر ایک لفظ پر قائم ہوں
انہوں نے کہا، ’’میں پیریار اور امبیڈکر کی وسیع تحریروں کو کسی بھی پلیٹ فارم پر پیش کرنے کے لیے تیار ہوں، سناتن دھرم اور سماج پر اس کے منفی اثرات پر وسیع تحقیق کر کے، میں اپنے راستے میں آنے والے کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ میں کارروائی کے لیے تیار ہوں، چاہے وہ عدالت میں ہو یا عوام کی عدالت میں۔ جعلی خبریں پھیلانا بند کریں۔”۔








