سرنگاپٹن :کرناٹک کے سری رنگا پٹن کی جامع مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ہزاروں ہندو کارکنوں اور ہنومان کے عقیدت مندوں کو جو اشتعال انگیز نعرے لگارہے تھے اتوار کے روز پولیس نےا روک دیا۔
ہزاروں بھگوا دھاری مردوں اور عورتوں نے ہنومان مندر سے سنکرتن یاترا نکالتے ہوئے "ایودھیا میں رام مندر، سری رنگا پٹن میں ہنومان مندر” کے اشتعال انگیز نعرے لگائے۔
مسجد کے قریب ہندوؤں کے ایک بڑی ریلی کے بعد پولیس نے اضافی نفری تعینات کر کے حالات کو بگڑنے سے روک دیا۔
ہندو ریلی نے پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر جامع مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس کی پابندیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھیڑ نے مسجد کے سامنے جمع ہوکر مسلم مخالف نعرے لگائے۔
اس یاترا کا اہتمام دائیں بازو کے ہندو گروپ ہندو جاگرن ویدک نے کیا تھا۔ ویدک اور اس کے ارکان پر اس کی تشکیل کے بعد سے ہی ریاست بھر میں مسلم مخالف تشدد میں ملوث ہونے کے الزام لگتے رہے ہیں۔
نیو انڈین ایکسپریس(NEW INDIAN EXPRESS) نے رپورٹ کیا کہ ریلی کے ارکان نے ایک گھر سے سبز جھنڈا بھی ہٹا دیا اس کی جگہ بھگوا جھنڈا لگا دیا۔
مسجد کے سامنے ہندوتوا کی علامت وی ڈی ساورکر کا بینر آویزاں تھا۔
اس ریلی میں کرناٹک کے وزیر کے سی نارائن گوڑا، ضلع بی جے پی صدر امیش اور دیگر ہندو لیڈران نے شرکت کی۔اس موقع پر 2000 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات تھے۔








