دیووس سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیل کو اسی وقت تسلیم کریں گے جب حالات مکمل طور پر نارمل ہوں گے اور ایسا معاہدہ ہوگا جس میں فلسطین کو ایک ملک کا درجہ ملے گا۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے ایک پینل سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ فرحان بن عبداللہ نے کہا کہ "ہم تسلیم کرتے ہیں کہ علاقائی امن میں اسرائیل کا امن بھی شامل ہے، لیکن یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب فلسطینیوں کے لیے امن ہو۔” الگ فلسطین ملک بنایا جائے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب اس وقت اسرائیل کو تسلیم کرے گا؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ’’بالکل‘‘
شہزادہ فیصل نے کہا کہ ہم امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کے لیے الگ ریاست بنا کر علاقائی امن کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں اور غزہ کے تناظر میں ایسا کرنا اور بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد سعودی عرب کی جانب سے تسلیم حاصل کرنا اسرائیل کے لیے ایک بڑی کامیابی ہو سکتی ہے اور یہ مشرق وسطیٰ کی سیاست کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔
خبر تھی کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے سے قبل سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہا تھا اور اس اقدام کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا لیکن حماس کے حملے کے بعد سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ اس ممکنہ مذاکرات کو ختم کر دیا۔
بحیرہ احمر میں کشیدگی اور خطے میں عمومی طور پر سلامتی کے بارے میں مملکت کی طرف سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہ بحیرہ احمر میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی سرگرمیوں کے دوران ایک ڈائیلاگ سیشن کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ کی جنگ پورے خطے کو بڑے خطرات کی طرف گھیسٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’بحیرہ احمر میں ہونے والے حملوں کا تعلق غزہ کی جنگ سے ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اسرائیل کی طرف سے جنگ اور کشیدگی کو روکنے کے لیے کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ ہماری ترجیح کشیدگی کو کم کرنے کے لیے راستہ تلاش کرنا ہے اور اس کا انحصار غزہ میں جنگ کو روکنے پر ہے”۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ "غزہ میں جنگ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو مزید کچھ کرنا چاہیے۔ غزہ میں جنگ مسلسل مصائب بڑھنے کے واقعات کا باعث بنیں گی”۔









