کانگریس کے اجلاس کے دوران امریکی وزیرخارجہ کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب وہ بریفنگ دینے کے لیے آئے تو مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے انہیں بات کرنے سے روک دیا۔ مظاہرین نے علامتی طور پر ہاتھوں کو سرخ رنگ لگا رکھا تھا اور وہ ’غزہ کے بچوں کو بچاؤ‘ اور جنگ بندی کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔
خیال رہے کہ سات اکتوبر کو غزہ میں حماس کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے حیران کن حملے کے جواب میں تل ابیب نے حماس کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے۔
بلینکن کے بولنے کے فوراً بعد سامعین میں سے ایک کھڑا ہوا اور ہال میں موجود لوگوں کے سامنے چلا چلا کر غزہ کے بچوں کی حمایت اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف نعرے لگانا شروع کر دیے۔
ایک اور شہری نے "جنیوا کنونشن گنجان آباد علاقوں پر بمباری کی ممانعت کرتا ہے”۔ اس نے مزید کہا کہ ” نسل کشی کی سپورٹ کرنا بند کرو”،” اب غزہ کے بچوں کو بچاؤ” اور دوسرے نعرے لگائے۔دریں اثنا ہال میں موجود بہت سے شرکاء کو اپنے ہاتھ اٹھا کر احتجاج کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہتھیلیوں کو سرخ رنگ لگا رکھا ہے۔
تھوڑی دیر بعد ایک اور خاتون نے بلینکن کی تقریر کے دوران نعرے لگانے کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ "امریکا ایک وحشیانہ قتل عام کی حمایت کرتا ہے”۔ پھر سیکورٹی گارڈز نے اسے باہر لے گئے۔ اس نے کہا کہ "دنیا جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہے۔ امریکی عوام اس جنگ کی حمایت نہیں کرنا چاہتے۔ یہ وحشیانہ جنگ ہے اس جنگ کو بند کرو۔” گولی چلانا بند کرو، اس وحشیانہ قتل عام کی مالی امداد بند کرو جو اسرائیل غزہ کے لوگوں کے خلاف کر رہا ہے‘‘۔بلینکن نے کئی بار بولنا چاہا مگر مظاہرین ہر بار نعرے لگا کر انہیں چپ کرا دیتے۔








