اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

عالم،مولانا،مولوی اورملّا

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مذہبیات
A A
0
عالم،مولانا،مولوی اورملّا
863
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مفتی محمدثناء الہدیٰ قاسمی
( نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ )

دینی علوم کے حاملین اورمذہبی شناخت رکھنے والے افرادواشخاص کیلئے عالم، مولانا، مولوی اورمُلاکے الفاظ عام طور پراستعمال کیے جاتے ہیں،لیکن ان کے مفہوم،مدلول اور اصطلاحی معنی میں بڑا فرق ہے،یہ الفاظ لغوی اوراصطلاحی طور پرایک دوسرے کے مترادف نہیں ہیں،بلکہ ہرایک کامعنی ومفہوم الگ الگ ہے۔

عالم کے معنی لغت میں جاننے والے کے آتے ہیں،اس کے لغوی معنی میں ایساعموم ہے کہ کسی بھی طرح کی باتیں جاننے والوں کوعالم کہاجاسکتاہے،لیکن ایسانہیں ہے، عام بول چال میں عالم کے عمومی معنی متروک ہوچکے ہیں ہرجاننے والے کوکوئی عالم نہیں کہتا،بلکہ اس کااطلاق کچھ خاص قسم کی صلاحیت رکھنے والے پرہی ہوتاہے،گویاعرف عام نے اس لفظ کولغوی معنی سے نکال کرایک الگ معنی میں استعمال کرناشروع کیا،جس کی وجہ سے عالم کی الگ اصطلاح وجودمیں آئی، منطق کی اصطلاح میں اسے منقول اصطلاحی کہاجاتاہے۔دارالعلوم دیوبندنے اپنے ایک فتویٰ میں لکھاہے کہ:’’علوم دینیہ کے مخصوص نصاب کوثقہ اساتذہ سے پڑھ کرفارغ ہونے والے شخص کوعرفاعالم کہا جاتا ہے‘‘۔ (جواب نمبر16857)

اس فتویٰ میں دوباتیں اہم ہیں،ایک مخصوص نصاب اوردوسرے ثقہ اساتذہ سے اس مخصوص نصاب کی تعلیم کے بعد فراغت،دار العلوم دیوبندکے اس فتویٰ کا حاصل یہی ہے،اس فتویٰ کی رو سے ان کے نزدیک مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں،لیکن مخصوص نصاب کاثقہ اساتذہ سے پڑھ کرتکمیل ضروری ہے۔یعنی درمیان میں کچھ پڑھ کرتعلیم منقطع کرنے والے کوبھی عالم نہیں کہیں گے۔

دارالعلوم دیوبندکے دوسرے فتویٰ میں لکھا ہے کہ دورحاضرکے عرف میں عالم وہ شخص ہے جوقرآن وحدیث کوباقاعدہ پڑھے ہوئے ہواورقرآن وحدیث کو،اس کے احکام کوبراہ راست سمجھتاہو،جماعت میں نکلنے والااگرکچھ باتیں دین کی سیکھ لے تواسے عالم نہیں کہاجائے گا،اسی طرح جس نے محض کتابوں کامطالعہ کرکے کچھ باتیں سیکھ لیں وہ بھی عالم نہیں کہاجائے گا،جب تک کسی مستندعالم کے پاس یا کسی مستندمدرسہ میں رہ کرتمام علوم آلیہ کوسیکھ کرعلوم قرآن اوراس کی تفسیرکونہ پڑھے اوراسی طرح علم حدیث کونہ سیکھے تووہ اہل علم کے یہاں اصطلاحی عالم شمارنہیں کیاجائے گا،عالم کے لیے باقاعدہ تمام علوم کوسات آٹھ سال تک پڑھناضروری ہے۔(فتویٰ146973، 28دسمبر 2016)

ارشادالفحول میں علامہ محمدبن علی شوکانی نے عالم ہونے کیلئے پانچ شرطوں کا ذکر کیا ہے، اس کاخلاصہ یہ ہے کہ عالم وہ شخص ہوگا،جونصوص قرآن وسنت صحاح ستہ اورحدیث کی دوسری کتابوں کاعالم ہو،تخریج پرقادرہو،صحیح اور ضعیف احادیث،لسان عرب،لغات کے معنی اسکی ترکیب کوجانتاہو،مسائل اجماع کا عارف،ناسخ ومنسوخ کاعالم اوراصول فقہ کا علم رکھتاہو، کیوں کہ اصول فقہ احکام شرعیہ کے استنباط کی بنیادہے۔ (جلد 2صفحہ297-303)

عالم کے اسی اصطلاح اورعرف کی وجہ سے مولاناابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بارے میں ان کی علمی عبقریت وعظمت کے باوجود ترجمان جلد14شمارہ3صفحہ227کے حوالہ سے فتاویٰ محمودیہ میں ان کااقرار نقل کیاہے کہ’’مجھے گروہ علماء میں شامل ہونے کاشرف حاصل نہیں ہے،میں ایک بیچ کی راہ کاآدمی ہوں جس نے جدیداورقدیم دونوں طریقہ ہائے تعلیم سے کچھ کچھ حصہ پایاہے،دونوں کوچوں کوخوب چل پھرکردیکھاہے۔‘‘(فتاویٰ محمودیہ1 صفحہ367)

اسی عرف کی وجہ سے یونیورسٹی کے شعبہ مطالعات اسلامی(اسلامک اسٹڈیز) سے فارغ ہونے والے کوبھی عالم نہیں کہا جاتا،ان کیلئے عرف میں اسلامک اسکالرکا لفظ مستعمل ہے،عام طورپرنہ توان کوعالم سمجھاجاتاہے اورنہ ہی انہیں مقتدیٰ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے،الا یہ کہ وہاں جانے کے پہلے انہوں نے کسی دینی تعلیمی ادارے سے متعینہ نصاب کی تکمیل کی ہو۔دار العلوم دیوبندہی کے ایک فتویٰ255-278/N=4/1441میں لکھاہے کہ ’’جانتے ہوئے کسی غیرعالم کوعالم،غیرحافظ کوحافظ یاغیرمفتی کومفتی کہنادرست نہیں ہے، اوراگرکوئی شخص لاعلمی میں یا دوسروں کی دیکھادیکھی کہتاہے تواسے حقیقت بتادی جائے۔‘‘ایک اورفتویٰ دار العلوم دیوبندکاہے جس میں لکھاہے کہ عالمیت کاکورس پڑھے بغیراپنے آپ کو عالم کہنادرست نہیں۔

دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤکے فتاویٰ ندوۃ العلماء میں مذکورہے کہ ’’جوشخص با قاعدہ کسی دینی درسگاہ یاکسی عالم دین سے علم حاصل نہیں کیاہو،انہیں عالم کے لقب سے پکارنادرست نہیں ہے اورنہ ہی اپنے کوعالم کہلانادرست ہے۔‘‘

البتہ جوواقعتاعالم ہیں ان کے بارے میں فرمایاگیاکہ’’بے شک زمین پرعلماء کی مثال ان ستاروں کی طرح ہے جن سے کائنات کی تاریکیوں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے، توجب ستارے ماندپڑجائیں توقریب ہے کہ ہدایت یافتہ لوگ گمراہ ہوجائیں۔‘‘ (مسند احمد 313-4،مسندانس بن مالک حدیث 12600)

ایک اورطبقہ ہے جس نے کسی مدرسہ میں پڑھے بغیربورڈسے صرف عالم فاضل کی سندحاصل کی ہے ،عرف میں وہ بھی عالم نہیں سمجھاجاتاکیوں کہ ان کی نصابی تعلیم نہیں ہوتی؛بلکہ وہ ذریعہ معاش کے حصول کیلئے امتحان دے کرسندحاصل کر لیتے ہیں،اس لیے عرف عام انہیں عالم ماننے کوتیارنہیں،یہ بات آج کے پس منظرمیں کہی جارہی ہے،ماضی میں بورڈ کے مدارس کے فارغین کی حیثیت بھی عالم کی ہوتی تھی،بھلاحضرت مولاناعبد الرحمنؒ امیرشریعت خامس کے عالم باعمل ہونے سے کسے انکارہوسکتاہے۔

عالم کوان دنوں عالم صاحب کم،مولاناکے لفظ سے زیادہ یادکیاجاتاہے،اس کے بھی حقیقی معنی متروک ہو گیے ہیں،البتہ عالم کے معنی میں تخصیص تھی،یہاں تعمیم ہے،مولاناصرف عالم پرہی نہیں عرف عام میں غیرعالم پر بھی بولا جاتا ہے ، مذہبی معلومات کے ساتھ وضع قطع اسلامی انداز کی ہو، لانبا کرتا، ٹخنہ سے اوپرپاجامہ اور چہرے پرڈاڑھی کے ساتھ وعظ وخطابت دعوت وتبلیغ اوراسلامی افکارواقدارکی ترویج واشاعت سے جوجڑگیااوربادی النظر میں خلاف شرع کام کرنے والانہ ہوتواسے مولاناصاحب کہتے ہیں،یہ بھی ایک عرف ہے،مولانامحمدعلی جوہر،مولاناشوکت علی، مولاناشفیع داؤدی وغیرہ کے نام کے ساتھ اسی عمومی معنی کے اعتبار سے مولانا لگاتے ہیں،حالاں کہ ان حضرات کی تعلیم کسی درسگاہ اسلامی میں نہیں ہوئی تھی، مولیٰ ایسالفظ ہے جوقرآن واحادیث اور کلام عرب میں باربارآیاہے،اس کے بہت سارے معنی ہیں،’’نا‘‘ضمیرہے جوبطور مضاف الیہ اس کے ساتھ جڑگیاہے،اس کے لیے کسی درس نظامی کافارغ ہوناضروری نہیں ہے۔تبلیغی جماعت میں کثرت سے ایسے افرادمل جائیں گے جوکہیں کے تعلیم یافتہ نہیں ہیں،لیکن ان کی وضع قطع دعوت وتبلیغ سے جڑے ہونے کی وجہ سے ناواقف لوگ انہیں مولاناکہاکرتے ہیں،اس سے معلوم ہواکہ تمام لوگ جومولاناکہے جا رہے ہیں ان کاعالم ہوناضروری نہیں ہے، لیکن جوعالم اصطلاحی ہیں وہ مولاناکہے جاتے ہیں،منطق کی اصطلاح میں ان دونوں میں عموم خصوص کی نسبت ہے، یعنی ہرعالم،مولاناکہاجاتاہے،لیکن ہر مولاناکہاجانے والاعالم نہیں ہوتا،البتہ بعض صورتوں میں فردواحدعالم اورمولانا دونوں ہوسکتاہے ۔

اسی قبیل کاایک لفظ مولوی ہے،جس کے معنی مالک کے آتے ہیں،مالک حقیقی تواللہ رب العزت ہے،اس لیے اس کے مجازی معنی اللہ والے کیلئے جاتے ہیں،مولاناجلال الدین رومی نے صوفیوں کی ایک جماعت بنائی تھی،جس کومولوی کہاکرتے تھے،غیاث اللغات میں اس لفظ کی تحلیل وتشریح کرتے ہوئے لکھاہے کہ’’مولوی بفتح المیم ولام منسوب بمولابمعنی خداوندکے ہیں، بعدمیں یائی نسبت کی وجہ سے جوکہ چوتھاحرف تھاواؤپربدل گیا کیوں کہ الف مقصورۃ جب تین حرفی کلمہ کے آخرمیں ہو تو نسبت کے وقت واؤپربدل جاتاہے‘‘ مولاناروم نے یہ لفظ ایک جگہ اپنے لیے بھی استعمال کیاہے۔

مولوی ہرگزنشدمولائے روم
تاغلام شیخ تبریزے نہ شد

ایک زمانہ تک یہ لفظ وکلاء کیلئے بھی استعمال ہوتاتھا،اب عام طورپرکم مذہبی معلومات رکھنے والوں کیلئے استعمال ہوتا ہے،گاؤں کے امام اورمؤذن کیلئے بھی یہ لفظ مستعمل ہے،عرف کے اعتبارسے اسے مولانا سے نیچے کا لفظ سمجھا جاتا ہے ، بڑے علماء اور اکابر اپنے شاگردوں کو خواہ وہ کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو مولوی صاحب ہی کہہ کرپکارتے ہیں، اپنے ماتحت عالموں کے لیے بھی اسے بُرا نہیں سمجھا جاتا ، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے نزدیک مولوی اس کو کہتے ہیں جو مولانا والا ہو یعنی علم دین بھی رکھتا ہو اور متقی بھی ہو، خوف خدا وغیرہ اخلاق حمیدہ رکھتا ہو (التبلیغ 133)ہمارے حضرت امیر شریعت سادس دفتر کے تمام کارکنوں کو مولوی صاحب ہی کہا کرتے تھے ، البتہ حضرت امیر شریعت سابع ’’مولانا‘‘ کے لفظ سے یاد کرتے تھے ، بلکہ بغیر مولانا لگائے کسی کو پکارا جائے تو وہ خفا ہوا کرتے تھے ۔

الفاظ کی اسی درجہ بندی میں ایک لفظ مُلّا بھی ہے ، ہمارے یہاں بہار میں 1978 سے پہلے تک فوقانیہ پاس کو مُلّا کہہ کر پکارتے تھے ،یہ لفظ پہلے معزز لوگوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، لیکن اب یہ عام طور پر کسی کو حقارت کے ساتھپیش کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے ، ملا اور محتسب کی جنگ بھی ہر دور میں چلتی رہی ہے ، ان دنوں یہ لفظ غیر مسلموں کی جانب سے ڈاڑھی ٹوپی والوں کے لیے اور کہیں کہیں عام مسلمانوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ علامہ اقبال کے یہاں بھی یہ لفظ آیاہے،لکھتے ہیں :

افغانیوں کے غیرت دیں کاہے یہ علاج
مُلّاکوان کے کوہ ودمن سے نکال دو

بعض اہل علم کی رائے ہے کہ’’علوم الٰہیہ میں جس کی بھی علمی سند حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہواسے مُلا،مولوی،مولانا،عالم کہہ سکتے ہیں اور جن کی علمی سندحضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچتی ہو،وہ نہ تو ملا ہے،نہ ہی مولوی،نہ ہی مولانااورنہ ہی عالم ۔‘‘

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

مذہبیات

جب مسجد اور تعلیمی ادارے کے درمیان جھگڑے کی تاریکی چھٹی

22 اگست
مذہبیات

ڈپریشن :قرآنی علاج

09 جولائی
مذہبیات

_یہودی قیادت سے معزول__

20 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN