نئی دہلی: اسرو کے سربراہ ایس سومناتھ نے گزشتہ دنوں ایک بیان دیا تھا۔ جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سائنس ہندوستانی ویدوں سے دریافت ہوئی ہے۔ اب اس بیان پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ سائنس دانوں اور محققین کی تشکیل کردہ تنظیم دی بریک تھرو سائنس سوسائٹی (بی ایس ایس) نے اس کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرو چیف کا بیان سچائی سے بہت دور ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو اسرو کے سربراہ کو بتانا چاہیے کہ اس وقت ویدوں سے لیا گیا کون سا علم راکٹ بنانے میں استعمال ہو رہا ہے۔
انیوز١٨کے مطابق اسرو کے سربراہ ایس سومناتھ، جو 24 مئی کو مہارشی پانینی سنسکرت اور ویدک یونیورسٹی میں منعقدہ کانووکیشن کے دوران مہمان خصوصی کے طور پر پہنچے تھے، نے کہا تھا کہ دھات کاری، علم نجوم، فلکیات، ایروناٹیکل سائنس اور فزکس کی چیزیں قدیم ہندوستان سے لی گئی ہیں۔ عرب لوگوں نے یہ علم ہندوستان سے لیا تھا۔ جہاں سے یہ یورپ پہنچا۔ بعد میں یورپ کے لوگ اس علم کو یہ کہہ کر ہمارے پاس واپس لائے کہ یہ جدید سائنس ہے۔







