اڈیشہ کے بالاسور میں ٹرین حادثے کو دو دن گزر چکے ہیں۔ اب بھی کئی مسافروں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔ موقع پر راحت رسانی کا کام مسلسل جاری ہے۔ حادثے میں اب تک کل 275 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جب کہ 1100 سے زائد افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔ اڈیشہ کے اسپتال زخمیوں، ان کے رشتہ داروں اور مدد کے متلاشی لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں۔
اس سب کے درمیان ایک باپ بھی ہے جو اپنے بیٹے کی تلاش میں ہے۔ بہار کے پورنیا کے 40 سالہ یومیہ اجرت مزدور وجیندر رشی دیو نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو تلاش کر رہے ہیں۔ اس کا بیٹا سورج چنئی جانے والی کورومنڈیل ایکسپریس کے مسافروں میں سے ایک تھا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا بیٹا زندہ ہے یا نہیں۔ وجیندر رشی دیو نے کہا، "جیسے ہی مجھے 2 جون کو اس المناک حادثے کے بارے میں پتہ چلا، میں اڈیشہ کے بالاسور کے لیے روانہ ہو گیا تھا۔ مجھے کچھ نہیں معلوم تھا کہ اپنے بیٹے یا اس کی لاش کو کہاں سے تلاش کروں۔ سورج ٹرین میں سوار تھا اور اس پر سوار تھا۔ نوکری کی تلاش میں چنئی جا رہا تھا۔ اس نے حال ہی میں بہار بورڈ سے دسویں کا امتحان پاس کیا تھا۔ میرے دو بیٹے ہیں اور ان میں سورج سب سے بڑا ہے۔ حادثے کے بعد میرا سورج سے رابطہ منقطع ہو گیا۔”ان کا لاشوں کے ڈھیر میں بیٹے کو تلاش کرنے والا ویڈیو بہت وائیر ہورہا ہے۔
’حادثے سے پہلے بھائی سے بات ہوئی تھی‘:اسی دوران ایک اور مسافر کے بھائی متھن رشی دیو نے بتایا کہ ان کا بھائی بھی کورومنڈیل ایکسپریس میں تھا۔ حادثے سے چند منٹ قبل اس نے اپنے بھائی للت سے فون پر بات کی تھی۔ مقامی لوگوں کی ٹیم نے بھی اسے بچا لیا لیکن وہ اتنا بری طرح زخمی ہوا کہ وہ فوراً ہی دم توڑ گیا۔
‘بھائی کی لاش ابھی تک لاپتہ ہے’:للت بھی بہار کے پورنیا کا رہنے والا تھا۔ للت یومیہ اجرت پر کام کرتا تھا اور چنئی جانے کے لیے اس ٹرین میں بیٹھا تھا۔ اس کے بھائی نے بتایا کہ للت کی لاش ابھی تک لاپتہ ہے۔ متھن اس کی تلاش میں اتوار (4 جون) کو بالاسور پہنچے۔ اسے اب تک جو کچھ ملا ہے وہ للت کا فون ہے، جو اسے مقامی لوگوں میں سے ایک نے دیا تھا جس نے اسے بچایا تھا۔ اس کی لاش ابھی تک لاپتہ ہے۔
بہرحال ٹیمیں لگی ہویی ہیں ۔جمعیت علماء ہند کی امدادی ٹیم بھی وہاں موجود ہے ۔غرض انسانیت کی مدد کے لیے ہر ہاتھ آگے بڑھا ہے مناظر بہت دلدوز،ناقابل دید ہیں۔لاشوں میں اب تک بہت لوگوں کی شناخت نہیں ہوپائی ہے ۔وزیر ریلوے کے مطابق سو زخمیوں کو بہت نگہداشت کی ضرورت ہے







