گوہاٹی(ایجنسی)آسام کانگریس کے صدر بھوپین بورا نے منگل کو الزام لگایا کہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ بدرالدین اجمل کے سی ایم ہمنتا بسوا سرما کے ساتھ خفیہ تعلقات ہیں۔بورا کے مطابق، "یہی وجہ ہے کہ پولیس نے اجمل کے اشتعال انگیز بیان کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، جس سے ہندو برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو۔”کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ کا بیان ریاست میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرسکتا ہے، اس کے باوجود بی جے پی حکومت کسی بھی سخت اقدام سے گریز کررہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی آئ اے این ایس کےمطابق بورا نے کہا: "پہلے ہم نے دیکھا کہ سرما کے تحت آسام پولیس ایک بہت ہی چھوٹے مسئلے پر جگنیش میوانی کے خلاف کارروائی میں کود پڑی اور سبھی اسے گرفتار کرنے گجرات گئے۔ یہاں تک کہ گوہاٹی کے وکٹر داس نام کے ایک استاد کو ریاستی حکومت کی بھرتی مہم کے خلاف کچھ منفی پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھاانہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں آسام میں قانون سب کے لیے برابر ہے یا نہیں۔بورا نے کہا کہ اجمل کو بچایا گیا کیونکہ ان کے ہمنتا بسوا سرما کے ساتھ قریبی روابط تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اجمل کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو وزیر اعلیٰ اس کے خلاف کارروائی کرتے۔انہوں نے اجمل کے بیان کے خلاف تبصرہ کرنے پر آسام کے وزیر پیوش ہزاریکا پر بھی تنقید کی۔انہوں نے ہندوؤں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ شادی کےلیے اسی فارمولے پر عمل کریں جیسا کہ مسلمان کرتے ہیں۔ واضح ہو اے آئی یو ڈی ایف لیڈر نے کہا تھا کہ اگر ہندو لڑکیاں 18-20 سال کی عمر میں مردوں سے شادی کرتی ہیں تو ان کے اچھے بچے پیدا ہو سکتے ہیں۔
اجمل کے ریمارکس پر کئی گوشوں سے بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی۔آسام میں اپوزیشن لیڈر دیببرتا سائکیا نے اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ کے خلاف ان کے ریمارکس کے لیے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ آسام جاتیہ پریشد (اے جے پی) پارٹی سمیت کئی دیگر تنظیموں نے بھی ریاست بھر میں بدرالدین اجمل کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں۔اجمل نے بعد میں اپنے ریمارکس پر معافی مانگ لی۔
تاہم انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے تبصروں کو توڑ مروڑ کر ایک نیا موڑ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا: ’’میرا کسی کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں نے کسی کو نشانہ نہیں بنایا.. پھر بھی اگر اس سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو مجھے اپنے بیان پر شدید افسوس ہے۔








