نئی دہلی :(ایجنسی)
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے اسمبلی میں دعویٰ کیا کہ مسلم کمیونٹی ریاست کی سب سے بڑی آبادی بن گئی ہے اور انہیں ایک اکثریتی برادری کے طور پر برتاؤ کرنا شروع کر دینا چاہیے۔ سرما نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری بھی مسلم کمیونٹی پر ،خاص طور پر بنگالی بولنے والے لوگوں پرڈالتے ہوئے کہا کہ آسام کے مقامی مسلمان بھی اپنی شناخت کھونے سے ڈرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دعوے کے حق میں ثبوت موجود ہیں لیکن ایوان میں پیش نہیں کیا۔
گورنر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا جواب دیتے ہوئے، سرما نے کہا، ’اب اقلیتیں اکثریت بن چکی ہیں۔ وہ ریاست کی آبادی کا 30-35 فیصد ہیں… ایک کروڑ کی آبادی کے ساتھ، وہ اب سب سے بڑی برادری ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق آسام کی کل 3.12 کروڑ آبادی میں ہندوؤں کی تعداد 61.47فیصد ہے ۔ مسلمانوں کی آبادی 34.22فیصد ہے اور وہ کئی اضلاع میں اکثریت میں ہے۔ جبکہ ریاست میں عیسائیوں کی کل تعداد 3.74فیصد ہے ، سکھوں، بدھسٹوں اور جینوں کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے آپ کو ’باہر والے‘ سمجھنا چھوڑ دینا چاہئے اور فرقہ وارانہ اتحاد اور ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیا کہ ہندوؤں کے اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ان کی شناخت کھونے کا خوف بڑھتا جا رہا ہے اور اس خدشے کے باعث ان کے اردگرد ’’حفاظتی دائرے یا حلقے‘‘ بنائے گئے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ’حفاظتی دائرے‘کا کیا مطلب ہے۔
سرما نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ریاست کی ترقی ان کی سرگرمیوں سے براہ راست جڑی ہوئی ہے اور ان پر زور دیا کہ وہ ریاست کو درپیش مسائل کو کم کرنے کے لیے غربت کے خاتمے، آبادی پر قابو پانے وغیرہ کے لیے کام کریں۔
سرما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہاں تک کہ ’مقامی مسلمان‘ بھی اپنی شناخت کھونے سے ڈرتے ہیں، بظاہر ان کے اور بنگالی بولنے والے، مہاجر مسلمانوں کے درمیان ایک حد بندی ہوتی ہے۔
1990 میں وادی سے کشمیری پنڈتوں کے اخراج پر مبنی حال ہی میں ریلیز ہونے والی ہندی فلم دی کشمیر فائلز کا حوالہ دیتے ہوئے، سرما نے کہا کہ آسام کے لوگ بھی کشمیری پنڈتوں کی طرح کی قسمت سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا، ’یہ آپ کا (مسلم کمیونٹی کا) فرض ہے کہ وہ ہمیں یقین دلائیں کہ وہ یہاں نہیں ہوگا، براہ کرم اکثریتی برادری کی طرح برتاؤ شروع کریں۔‘
اس کے ساتھ ہی سرما نے کہا کہ مجرموں کے خلاف پولیس کی کارروائی کے نتائج برآمد ہوئے ہیں اور ریاست میں جرائم میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس اہلکار قانون کی حدود سے باہر کام کرتے ہیں تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ سرما نے کہا کہ ریاست میں جرائم کی شرح میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔










