نئی دہلی :(ایجنسی)
اترپردیش کے ایک قوال وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، پر طنز کرکے مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ریوا میں دو دن منعقدہ عرس کی تقریب میں قوال نے متنازع تبصرہ کیا تھا۔راج دروہ سمیت کئی سنگین دفعات میں ایف آئی آر کرتے ہوئے مدھیہ پردیش پولیس قوال کو راؤنڈ اپ کرنے کے لئے کانپور پہنچ گئی ہے ۔
بتا دیں کہ 28 مارچ کو منگنوا، ریوا میں سالانہ عرس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریب میں یوپی کے قوال نواز شریف اپنی ٹیم کے ساتھ پرفارم کرنے آئے تھے۔ اس موقع پر بی جے پی کے کئی رہنما موجود تھے۔
قوال نواز شریف نے پریزنٹیشن کے دوران کہا تھا، ‘مودی جی کہتے ہیں ہم ہیں، یوگی جی اور امت شاہ کہتے ہیں ہم ہیں۔ مگر ہیں کون؟ اگر غریب نواز چاہ لیں تو ہندوستان کا معلوم نہیں چلے گاکہ کہاں پر بسا تھا،کہاں پر تھا۔
عرس میں پرفارمنس سے متعلق قوال نواز شریف کی یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوگئی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہندو تنظیموں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ مطالبہ کیا گیا کہ ہندوستان کے معزز لیڈروں کے خلاف ملک دشمن اور قابل اعتراض ریمارکس کرنے والے قوال کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے۔
مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ اور حکومت کے ترجمان نروتم مشرا سے جمعرات کو میڈیا کے اہلکاروں نے پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے بتایا کہ ‘انہوں نے قوال کے خلاف بغاوت اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ مدھیہ پردیش پولیس کی ٹیم بھی قوال کو پکڑنے کانپور پہنچ گئی ہے۔
ادیبوں، گلوکاروں، شاعروں کو وارننگ
ریاستی وزیر داخلہ اور حکومتی ترجمان مشرا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ‘قوال نواز شریف ٹھمری، دادرہ، خیال جو بھی گائیں، لیکن ملک کے خلاف گانے کی سوچ کو دور کریں۔ مشرا نے مزید کہا، ’چاہے وہ ادیب ہوں، گلوکار ہوں، شاعر ہوں یا قوال – ان سب کو اپنے دل سے ملک مخالف سوچ کو نکال دینا چاہیے۔‘ نروتم مشرا نے کہا، ’یہ قوم پرستی کا دور ہے۔ اب قوم پرستوں کی حکومت ہے۔ اب ایسے نہیں چلے گا۔
مدھیہ پردیش پولیس نے قوال نواز شریف کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153، 505، 258-A اور 98 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔










