سہارنپور:اترپردیش کے سہارنپور میں مرزا پور تھانہ علاقے میں واقع گلوکل یونیورسٹی کو ضبط کر لیا گیا ہے۔ یہ یونیورسٹی 121 ایکڑ میں ہے، اس کی زمین اور عمارت کی قیمت 4440 کروڑ روپے ہے۔ یہ عبدالواحد ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کے نام پر ہے۔ ای ڈی نے اسے غیر قانونی کانکنی کیس میں منسلک کیا ہے۔
ای ڈی نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ یہ ٹرسٹ سابق ایم ایل سی محمد اقبال اور ان کے خاندان کے زیر انتظام اور کنٹرول ہے۔ اس پورے معاملے میں ڈی ایم نے کہا کہ جیسے ہی ہمیں حکم ملے گا، اس پر کارروائی کی جائے گی۔
دراصل سابق ایم ایل سی محمد اقبال عرف حاجی اقبال کے خلاف کانکنی کے مقدمات میں محمد اقبال مفرور ہیں۔ ان کے بیٹے جیل میں ہیں۔ محمد اقبال کس ملک میں ہیں اس بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ای ڈی نے محمد اقبال کی زمین اور مکان کو ضبط کر لیا ہے اور مسلسل کارروائی جاری ہے۔
ڈی ایم نے کہا کہ ای ڈی نے ضلع سطح، پولس سطح اور ریاستی محکمہ سے مانگے گئے متعلقہ ریکارڈ کو وقت پر پہنچا دیا ہے، جس کی بنیاد پر ای ڈی نے کارروائی کی ہے۔ جیسے ہی ہمیں حکم ملے گا، اس پر مسلسل کارروائی کی جائے گی۔ کسی بھی اسکول میں طلباء کے لیے جو بھی ہدایات موصول ہوں گی، ان پر عمل کیا جائے گا۔ طلباء کو کسی بھی طرح پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ای ڈی کی طرف سے جائیداد ضبط کر لی گئی ہے، مزید جو بھی کارروائی کی جائے گی، اسے ای ڈی کے نوٹس میں لانے کے بعد ہی کی جائے گی۔
محمد اقبال کی گلوبل یونیورسٹی کی 4440 کروڑ روپے کی عمارت کو اٹیچ کرنے کے بعد اٹیچمنٹ کی کارروائی کی جائے گی۔ ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر دنیش چندرا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے سخت احکامات ہیں کہ جو لوگ مجرم ہیں یا جنہوں نے غنڈہ گردی کر کے کسی بھی قسم کی جائیداد حاصل کی ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔









