شاہجہاں پور اترپردیش کے شاہجہاں پور میں مسجد کے اندر قرآن کریم کے نسخے کو نذرآتش کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ معاملہ سامنے آتے ہی مسلمان سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ حالات کی نزاکت محسوس کرکے اعلیٰ
پولیس افسران پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور مشتعل لوگوں کوسمجھانا بجھانا شروع کردیا۔اے بی نیوز نے یہ خبر دی ہے ای بی پی نیوز نے آگے بتایا کہ مسجد میں پیش آنے والے (بے حرمتی کے) اس واقعے کے بعد ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے اندیشے کو دیکھ کر احتیاطی تدابیر کے تحت بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شاہجہاں پور مسجد کے امام، پولیس کے اعلیٰ افسران اور اعلیٰ شخصیات نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
اس دوران جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر کچھ شرپسند عناصر نے بیچ روڈ پر لگے بینر کو پھاڑ کر آگ لگا دی۔جس کے بعد پولیس نے فوراً موقع پر پہنچ کر آگ بجھائی اور ہلکی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بھیڑ کو منتشر کیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ ایس آنند کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آچکی ہے۔ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ جلد ہی سارا معاملہ بے نقاب ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایس آنند نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
شاہجہاں پور کے ایس پی ایس آنند نے کہا کہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ کوتوالی تھانہ علاقے کے ایک مذہبی مقام پر ایک مذہبی کتاب ( قرآن مجید)کے کچھ جلے ہوئے صفحات ملے ہیں۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لوگوں سے بات کی اور مقدمہ درج کر لیا۔ ہم سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چیک کر رہے ہیں۔ پولیس فورس موقع پر تعینات ہے۔ واقعے کی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے۔ جس کی بنیاد پر شناخت کی جا رہی ہے۔








