بنگلورو: طلباء، مسلم تنظیموں اور کارکنوں نے منگل کو یہ دعویٰ کیا کہ حکمراں بی جے پی حکومت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو کرناٹک کے سرکاری رہائشی اسکولوں میں طلباء کے لیے تربیتی کیمپ منعقد کرنے کی اجازت دے رہی ہے خبر رساں ایجنسی آئ اے این ایس کے مطابق اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے ریاستی سکریٹری واسودیو ریڈی نے کہا: "کرناٹک میں حکمراں بی جے پی آر ایس ایس کے کیمپوں کو مرارجی دیسائی رہائشی تعلیمی اداروں میں چلنے کی اجازت دے رہی ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، "اگر آر ایس ایس کے ذریعہ کیمپوں کے انعقاد کو روکا نہیں گیا تو، ایس ایف آئی ریاست گیر ایجی ٹیشن شروع کرے گی۔”انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ کیمپ شمالی کرناٹک کے کولاراوربیدر کے مولباگل تعلقہ میں منعقد کیاجا رہا ہے۔
"آر ایس ایس، جو ایک فرقہ وارانہ طاقت کے طور پر جانا جاتا ہے، طلباء کے لیے کیمپ منعقد کرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہسماجی بہبود کی ترقی کے وزیر کوٹا سری نواسا پجاری نے خود طلبہ کے لیے کیمپ منعقد کرنے کی سفارش کی ہے،‘‘ ریڈی نے آگے کہا”یہ حکمراں بی جے پی کی طرف سے تعلیم کو بھگوا بنانے کا ایک حصہ ہے۔ بی جے پی فرقہ پرستی کے اس نظریے کو حجاب کے تسلسل، اسکول کے نصاب پر نظرثانی کے مسائل کے ساتھ لے کر آرہی ہے۔ یہ حکمراں بی جے پی کی طرف سے تعلیمی اداروں کو آر ایس ایس کے حوالے کرنے کی کوشش ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ” انہوں نے مطالبہ کیا آر ایس ایس کے ان کیمپوں کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ ان کیمپوں میں ہتھیاروں کا استعمال اور جسمانی تربیت دی جا رہی ہے۔
آر ایس ایس سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ واسودیو ریڈی نے کہا کہ یہ تشویشناک بات ہے کہ نرم ذہنوں پر ان کیمپوں کا کیا اثر پڑے گا۔ریاستی حکومت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تربیتی کیمپ (ٹریننگ کیمپ) منعقد کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور یہ نوجوانوں کو یوگاسن، شخصیت کی نشوونما اور قوم پرستی کی تربیت دینے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ آئ اے این ایس کے مطابق پریرنا پرتشتھان کو کولار ڈسٹرکٹ کے رہائشی ہاسٹل میں ایک ہفتہ کیمپ منعقد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔حکومت نے اترا کنڑ ضلع میں اکشے سیوا پرتشتھان کے ذریعے بھی اسی طرح کے کیمپ کی اجازت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق شمالی کرناٹک میں ایک اور کیمپ لگانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ –








