نئی دہلی (آرکےبیورو): سوشلسٹ پارٹی انڈیا کے زیر اہتمام یہاں راجندر بھون میں منعقد ایک کنونشن میں شریک لیڈروں نےملک کی سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فسطائی طاقتوں کو شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ انڈیا الائنس کا ساتھ دیا جائے
مقررین نے عدلیہ سے آنے والے بعض فیصلوں کے حوالہ سے کہا کہ اب امید کی یہ کرن بھی بجھ رہی ہے
ان کا کہنا تھا آج صرف مسلمان ہی پریشان نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کی طرف سے کہا جاتا ہے بلکہ ہر طبقہ پریشان ہے کاروباری ہو یا نوکر پیشہ،کسان ہو یا مزدور،دانشور ہو یا طالب علم ہر کوئی پریشان ہے یا سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ ہراساں کیا جارہا ہے
انہوں نے کہا کہ آج لڑائی گاندھی اور گوڈسے کےدرمیان ہے-

سابق ایم پی محمد ادیب نے کہا کہ بھارت دو تہذیبوں کا سنگم رہا ہے اس میں فرقہ واریت کا پانی ڈالا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ یہ ملک بچانے کا وقت ہے ہماری صورت پر الیکش جیتا جاتا ہے یہ اس ملک کی بدنصیبی ہے۔ محمد ادیب نے کہا کہ یہ آخری لڑائی ہے
جموں وکشیمر کے لیڈر آئی ڈی کھجور یا نے کہا کہ یہ وقت آئین اور دیش بچانے کا ہے۔جموں و کشمیر جو کچھ بھگتتا رہا ہے وہ اب پورا ہندوستان بھگت رہا ہے
دہلی پر دیش کانگریس کے صدر اروندر سنگھ لولی نے کہا کہ جب اقتدار ایک شخص کے گرد گھومے لگے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔انہوں نے ایس پی انڈیا کی طرف سے انڈیا الائنس کو غیر مشروط حمایت دینے کے لئے شکریہ ادا کیا اور دعوی کیاکہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی واحد لیڈر ہیں جو سرکار کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں اور آرآیس ایس کو چیلنج کررہے ہیں-لولی نے امید ظاہر کی کہ اگلا الیکشن سیکولر طاقتیں مل کر لڑیں گی ۔
واضح رہے میٹنگ کا موضوع تھا ‘آئین بچاؤ، جمہوریت بچاؤ،’ ‘سیکولرازم بچاؤ، فرقہ واریت کو شکست دو’۔ الائنس، اور ‘سپورٹ انڈیا الا ئنس اس کنونشن میں ان کے علاوہ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر دیپک بابریا،نوجوان کانگریس لیڈر محمد ہدایت اللہ، مدھیہ پردیش سے دو بار سابق ایم ایل اے ڈاکٹرسنیلم، سوراج انڈیا کے رہنما اجیت جھا، جموں و کشمیر سے انٹرنیشنلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما، I.D. کھجوریا، سوشلسٹ دانشور وجے پرتاپ، مسلم یوتھ لیگ کے صدر آصف انصاری، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل انیل نوریا، کمیونٹی لیڈر نرگس خان اور سوشلسٹ مہیلا سبھا کے صدر ڈاکٹر۔ شوچیتا کمار وغیرہ نے بھی اپنی بات رکھی۔
اجیت جھا نے کہا کہ بی جے پی آزادی پسندوں کے ناموں کو اپنے آئیکن کے طور پر استعمال کرتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اسے ساورکر اور گولوالکر کے نام پر ووٹ نہیں ملے گا۔ وجے پرتاپ نے کہا کہ لوگوں کو اپنے ووٹر لسٹ کو احتیاط سے چیک کرنا چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ان کے نام نہیں ہٹائے جا رہے ہیں۔ میٹنگ کے مرکزی مقرر کے طور پر سنیلم نے کہا کہ لوگ ایس پی (آئی) میٹنگ میں اس لیے آئے تھے کیونکہ وہ عام لوگوں کے لیے تحفظ کی ضمانت چاہتے تھے، جو بی جے پی کے دور حکومت میں خطرے میں پڑ گئی تھی۔ انہوں نے ایک قرارداد پیش کی کہ ہندوستان کے لوگ فلسطین کے لوگوں کے ساتھ ہیں، جیسا کہ وہ روایتی طور پر اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی ہندو مسلم اتحاد کے لئے پرعزم تھے اور اسی طرح وہ لوگ ہیں جنہوں نے آج اس میٹنگ کا اہتمام کیا ہے۔ سنیلم نے کہا کہ انڈیا الائنس کی حمایت غیر مشروط ہے لیکن ہندوستانی اتحاد کو کم از کم امدادی قیمت کے نفاذ، لیبر کوڈز کو ختم کرنے اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت بھی دینی چاہیے۔
میٹنگ کی صدارت ایس پی (آئی) کے نائب صدر منجو موہن نے کی۔ اس پروگرام روح رواں دہلی سوشلسٹ پارٹی (انڈیا) کے صدر سید تحسین احمد تھے وہی آرگنائزر بھی تھے جس میں محمد چاند اور رضوان خان نے بھرپور مدد کی








