اسرائیل کے سابق وزیر دفاع آویگیڈور لائبرمین نے کل جمعہ کے روز "ایکس” پلیٹ فارم کے اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے "دی نیکسٹ ڈے” کے عنوان سے ایک نیا پلان پیش کیا ہے۔ یہ پلان ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری جاری ہے۔
لائبرمین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی غزہ کی پٹی پر سکیورٹی کنٹرول سنبھالے، پٹی کے علاقے میں کم از کم ایک کلومیٹر گہرائی میں ایک حفاظتی پٹی قائم کرے۔ اس نے اسرائیل سے جنوبی لبنان پر قبضہ کرنے اور دریائے لیطانی کی ایک طرف فوج کی تعیناتی کے ساتھ اسرائیلی فوج کو غزہ کی پٹی پر تعینات کرنے کا مطالبہ کیا۔
صرف یہی نہیں اس نے مصر کے ساتھ سرحد پر فلاڈیلفیا کے محور کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا کہ اس اقدام سے غزہ کی پٹی کے تقریباً 1.5 ملین باشندے جزیرہ نما سینا کی طرف رضاکارانہ طور پر روانہ ہو سکتے ہیں۔
لائبرمین نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ "جنگ کے بعد کے معاملے پرکسی بھی تصفیے میں ہمارے ساتھ گڑبڑ نہ کرنے کا واضح پیغام شامل ہونا چاہیے، جو حماس اور حزب اللہ کو دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے زیر کنٹرول زمینوں کا نقصان وہ بھاری قیمت ہے جسے انہیں ادا کرنا ہوگا۔
اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق غزہ کی 85 فیصد آبادی کی نمائندگی کرنے والے 1.9 ملین افراد لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جب کہ پٹی پر قحط کا خوف منڈلا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں غزہ کے جنوبی شہر خان یونس اور وسطی غزہ میں کارروائیوں میں شدت کے ساتھ مزید ایک لاکھ لوگ رفح کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔









