نئی دہلی :(ایجنسی)
اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ میں ایس پی کے سینئر لیڈر اعظم خاں کو لینڈ مافیا قرار دیتے ہوئے ضمانت کی مخالفت کی ہے۔ یہی نہیں یوپی حکومت نے کہا کہ اعظم خاں ایک ‘’عادی مجرم‘ ہیں۔ یوپی حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے کہا کہ اعظم خاں زمین پر قبضے کے معاملے میں تفتیشی افسر کو پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی سربراہی والی بنچ کے سامنے انہوں نے کہا، ’’اعظم خاں ایک لینڈ مافیا ہیں۔ لوگوں نے ذاتی طور پر ان کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں۔ وہ عادی مجرم ہے۔ انہوں نے ہر چیز میں دھوکہ دھڑی کی ہے۔
سپریم کورٹ نے اعظم خاں کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ رکھا
یوپی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اعظم خاں عدالت سے عبوری ضمانت مانگ رہے ہیں، لیکن اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ وکیل نے کہا، ‘ان کے خلاف کئی ایسے مقدمات درج ہیں، جن میں عمر قید تک کی سزا کا التزام ہے۔ اس کے خلاف پہلے سے درج مقدمات پر بھی توجہ دی جائے کیونکہ وہ عادی مجرم اور لینڈ مافیا ہے۔ یوپی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ اعظم خاں لیڈر ہونے کے باوجود ان کے خلاف درج مقدمات کو اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کے وکیل سے کہا کہ ریاستی حکومت ایک معاملے میں اعظم خاں کو ضمانت اور دوسری میں جیل نہیں دے سکتی۔
سپریم کورٹ نے درخواست ضمانت پر سماعت میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا
اعظم خاں کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ ان کے موکل دو سال سے جیل میں ہیں۔ ایسے میں وہ کسی کے لیے خطرہ یا دھمکی کیسے دے سکتا ہے۔ فی الحال عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ قبل ازیں عدالت نے یوپی حکومت سے اعظم خاں کی ضمانت کی مانگ پر جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ یہی نہیں عدالت نے اعظم خاں کی ضمانت کے مطالبے پر سماعت میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف کا مذاق بتایا تھا۔ بنچ نے کہا تھا کہ اعظم خاں کو ایک کیس کے علاوہ تمام میں ضمانت مل گئی ہے۔ یہ انصاف کا مذاق ہے۔ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔
واضح رہے کہ اعظم خاں کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہائی کورٹ نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ بتا دیں کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 5 فروری کو اعظم خاں کی ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ یہ انیمی پراپرٹی قبضہ کرنے کا معاملہ تھا۔ اعظم خاں کے خلاف درج مقدمے میں ان پر انیمی پراپرٹی قبضہ کرنے اور کروڑوں روپے کے عوامی فنڈز کا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے۔ الزام ہے کہ تقسیم کے بعد امام الدین قریشی پاکستان چلے گئے اور ان کی جائیداد انیمی ملکیت میں آگئی۔ اعظم خاں نے اس جائیداد پر قبضہ کر رکھا ہے۔









