اسرائیلی وزیر گادی آیزنکوٹ نے اپنی ہی حکومت سے غزہ کے خلاف جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرنوت نے مذکورہ وزیر کا بیان نقل کیا ہے: ’’ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ سے جھوٹ بولنا بند کریں۔ بہادری کو اپنا شعار بنائیں اور ایک بڑی ڈیل کی طرف توجہ دیں جس سے یرغمالی اپنے وطن واپس لوٹ سکیں۔‘‘ مذکورہ وزیر نے مزید کہا : ’’قیدیوں کی رہائی کا وقت نکالا جا رہا ہے۔ ہر گزرتے دین کے ساتھ ان کی زندگی خطرے میں پڑتی جا رہی ہے۔ حکومت اندھوں کی طرح جس راستے پر چلتی آ رہی ہے اسی پر چلتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، جب کہ یرغمالی وہاں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ سنگین وقت شجاعت اور بہادری کے فیصلے لینے کا ہے۔‘‘
آیزنکوٹ، جو کہ مجلس حرب کے رکن بھی ہیں، نے کہا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی واپسی کے لیے حماس سے مذاکرات ہونے چاہئیں، خواہ اس کے لیے جنگ بندی کو قبول کرنا پڑے، تاہم اسرائیلی وزیر اعظیم نیتنیاہو اور وزیر دفاع یوآف گالانٹ اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔یدیعوت احرنوت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر گانٹس اور آیزنکوٹ کا ماننا یہ ہے کہ اسرائیل کو مختلف انداز سے سوچتے ہوئے قیدیوں کی واپسی کو اولیت دینی چاہیے خواہ اس کے لیے جنگ روکنی پڑے۔ غزہ کے خلاف کا جنگ کا دوسرا ہدف، یعنی حماس کا خاتمہ بھی اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر کی طرف سے یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کہ اسرائیلی عوام کی طرف سے قیدیوں کی واپس کے سلسلے میں حکومت پر زبردست دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ لیکن نیتنیاہو اور گالانٹ کے علاوہ اسٹریٹجک امور کے وزیر رون دیرمر اس بات پر بضد ہیں کہ فوجی دباؤ بنا کر رکھنا ہی وہ واحد حل ہے جو کسی متفقہ فیصلے تک پہنچا سکتا ہے اور جارحانہ حملوں کو بند کرنے پر اتفاق نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ مصر اور قطر کی نگاہیں امریکا پر لگی ہوئی ہیں تاکہ غزہ میں دوبارہ وقتی جنگ بندی ہو جائے۔ ۷ اکتوبر کے بعد سے اب تک غزہ کے خلاف اسرائیلی حملوں میں ۲۴۱۰۰ افراد شہید، ۶۰۸۳۴ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں ۷۰ فی صد تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔









