نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی یونیورسٹی کی لاء فیکلٹی نے ہفتہ کو سینئر ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن کے ذریعہ کئے جانے والے مباحثہ کو مقررہ وقت سے 20 منٹ پہلے ملتوی کردیا۔ پرشانت بھوشن ’ہندوستانی آئین کو چیلنجز‘ نامی موضوع پر بات کرنے پہنچے تھے اور فیکلٹی نے طلباء کے رویے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا پروگرام روک دیا۔ لاء فیکلٹی کیمپس میں بولنے کے لئے داخلہ محروم کئے جانے کےبعد پرشانت بھوشن نے سڑک پر ایک مختصر لیکچر دیا ۔
حالانکہ پرشانت بھوشن نے الزام لگایا کہ موضوع کے پیش نظر پروگروم کو رد کرنے کا دباؤں تھا ۔ کیونکہ موجودہ سرکار کے خلاف ان کا موقف تھا۔ لاء فیکلٹی کی ڈین اوشا ٹنڈن نے کہاکہ ’’ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ سی ایل سی ( کیمپس لاء سینٹر ) کے کچھ طلباء کے ذریعہ منعقد ’ ہندوستانی آئین کو چیلنجز‘ سے متعلق پروگرام کے انعقاد کی اجازت رد کردی گئی ہے۔ سیمینار اور کانفرنس روم بکنگ سمیتی کی میٹنگ کے فیصلے کے مطابق 25 مارچ سے طلبہ کے غیر برداشتہ رویے کے باعث فیصلہ لیاگیا ہے ۔ ‘‘
منتظمین میں شامل ایک طلبہ وویک راج نے کہاکہ ’’ ہمیں سیمینار ہال میں تقریبمنعقد کرنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ ہم کل شام سے چابیاں مانگ رہے تھے لیکن ہمیں منع کر دیا گیا ۔ ہم نے انہیں بتایا کہ وبا کی وجہ گزشتہ دو سال سے کمرہ بند ہے ، اس لئے ہمیں کمرے کو صاف کرنے اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے چابی کی ضرورت ہے ۔ اس کے بعد ہم نے مخالفت شروع کی ، جس کےبعد عہدیداروں نے پولیس کو بلالیا۔‘‘
اسی دوران کل ہنگامہ کے دوران ڈپٹی پراکٹر گنجن گپتا نے کہا کہ پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ اوپر سے لیا گیا ہے۔ آج نوٹس میں کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارے رویے کی وجہ سے ہے۔ جب اس تقریب کو منسوخ کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو پراکٹر گپتا نے یہ کہتے ہوئے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، ’’میں صحیح شخص نہیں ہوں۔ آپ کو حکام سے بات کرنی چاہیے۔‘‘
ساتھ ہی پرشانت بھوشن نے اس پورے معاملے کے بارے میں کہا کہ ’’اہلکاروں نے غیر رسمی طور پر منظم کرنے والے طلبہ سے کہا تھا کہ بات چیت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یونیورسٹی کے افسران کو اپنے سیاسی آقاؤں سے کچھ ہدایات ضرور ملی ہوں گی کہ آپ پرشانت بھوشن کو یہاں تقریر کرنے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ میں آج گیا کیونکہ طلباء سے ملنا میرا فرض اور ذمہ داری تھی۔ آج ایک مثال یہ ہے کہ جس مقرر کے خیالات اس حکومت کے خلاف ہوں اسے اس یونیورسٹی میں بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘










