کرناٹک کی کانگریس حکومت لگاتار ایکشن میں ہے ،اس نے شرپسند عناصر پر شکنجہ کسنے کے لئے ایک اور قدم اٹھایا ہے
اطلاعات کے مطابق اس نے نے فرضی خبر پھیلانے والوں پر سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے ہر پولیس اسٹیشن میں ایک الگ سائبر وِنگ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت فیس بک، ٹوئٹر، گوگل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ بھی کرے گی۔
سدارمیا حکومت میں وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے بدھ کے روز کہا کہ فیس بک، ٹوئٹر، گوگل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے نمائندوں کی ایک میٹنگ جلد ہی بلائی جانے والی ہے۔ فرضی خبروں کو نشر کرنے والوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے اور اس پر جلد ہی قابو پایا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جو کوئی بھی فرضی خبر بناتا ہے اور اسے نشر کرتا ہے، تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کارروائی یقینی ہے، چاہے کوئی بھی سیاسی تنظیم ہو۔
وزیر اعلیٰ نے افسران سے شروع میں ہی جڑوں کو کاٹ کر کارروائی کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے دوران سیکورٹی فورسز نے بچہ چوروں، گائے کا گوشت ڈھونے وغیرہ کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی لوگوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو مضبوط عزم کے ساتھ خارج کر دیا ہے۔ ایسے میں جب لوک سبھا انتخاب کی تیاری چل رہی ہے، فرضی خبروں کے ذریعہ سے مختلف فرقوں کے درمیان تصادم، فسادات کے اشارے مل رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے سائبر پولیس کو فرضی خبروں کا پتہ لگانے کے لیے تیار رہنے اور ماہانہ بنیاد پر ایک رپورٹ دینے کی ہدایت دی ہے۔







